نزول المسیح — Page 438
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۴ نزول المسيح ۵۲ قابل اعتراض ٹھہرے گا۔ ایسا ہی ادباء کو یہ اتفاق بھی پیش آ جاتا ہے کہ گو ہیں شخص ایک مضمون کے ہی لکھنے والے ہوں جو ہیں ہی ادیب اور بلیغ ہوں مگر بعض صورتوں کے ادائے بیان میں ایک ہی الفاظ اور ترکیب کے فقرہ پر اُن کا توارد ہو جائے گا اور یہ باتیں ادباء کے نزدیک مسلمات میں سے ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں اور اگر غور کر کے دیکھو تو ہر ایک زبان کا یہی حال ہے اگر اردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اُس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دوسرا فصیح بھی اُسی رنگ میں کہہ دیتا ہے اور بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔ اگر بعض پر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعرائے جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لنی فہرست طیار ہوگی اور ان امور کو حقین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا بلکہ اسی غرض سے ائمہ راشدین نے جاہلیت کے ہزار ہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لئے ان کو بطور سند لاتے تھے۔ یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گوهر بی ہو یا اردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے۔ (۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اُس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جولازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اُٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر اُن مضامین کو میں لکھ سکتا۔ واللہ اعلم۔ (۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر نئے اور وہ یہ ہے کہ جب میں مثلاً ایک عربی عبارت جیسا کہ بار ہا بعض امراض کے علاج کے لئے مجھے بعض ادویہ بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ پہلے مجھ سے جالینوس کی کتاب میں لکھی گئی ہیں یا بقراط کی کتاب میں۔ ایسا ہی میری انشاء پردازی کا حال ہے۔ جو عبارتیں تائید کے طور پر مجھے خدائے تعالیٰ سے معلوم ہوتی ہیں مجھے اُن میں کچھ بھی پروا نہیں کہ وہ کسی اور کتاب میں ہوں گی بلکہ وہ میرے لئے اور ہر ایک کے لئے جو میرے حال سے واقف ہو معجزہ ہے اور اگر کسی کے نزدیک معجزہ نہ ہوتو اس پر پانی پینا حرام ہے جب تک با لمواجہ بیٹھ کر پابندی شرا ئکا مشتہر و مقابلہ نہ کرے۔ منہ