نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 822

نزول المسیح — Page 436

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۲ نزول المسيح (۵۳) یہ کتاب اگر چہ اس لائق نہ تھی کہ ایک نظر بھی اس کو دیکھ سکیں کیونکہ مؤلف کتاب نے جیسا کہ اُس کو چاہیئے تھا بالمقابل عربی تفسیر لکھ کر اپنی معجزانہ طاقت کا کچھ ثبوت نہیں دیا اور جس فرض کو ادا کرنا تھا اور اس قدر لمبی مدت میں بھی اس کو ادا نہیں کر سکا بلکہ مقابلہ سے منہ پھیر کر اپنی در ماندگی کی نسبت اپنے ہاتھ سے مہر لگادی اور آپ گواہی دے دی کہ در حقیقت اعجاز المسیح خدا کی طرف سے ایک نشان ہے جس کی نظیر پر وہ قادر نہ ہو سکا۔ تاہم میں نے اس اردو کتاب کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ بجز بیہودہ نکتہ چینیوں کے کوئی امر بھی اس میں قابل التفات نہیں اور نکتہ چینی بھی ایسی کمینہ پن اور جہالت کی کہ اگر اس کو ایک جائز اعتراض سمجھا جائے تو نہ اس سے قرآن شریف باہر رہ سکتا ہے اور نہ احادیث نبویہ اور نہ اہل ادب کی کتابوں میں سے کوئی کتاب۔ اب نکتہ چینی کو غور سے سنو کہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اس کتاب اعجاز اصیح میں جو دوسو صفحہ کی کتاب ہے چند فقرے جو اکٹھا کرنے کی حالت میں چار سطر سے زیادہ نہیں ہیں ان میں سے بعض مقامات حریری اور بعض قرآن شریف سے اور بعض کسی اور کتاب سے مسروقہ ہیں اور بعض کسی قدر تغییر تبدیل کے ساتھ لکھے گئے ہیں اور بعض عرب کی مشہور مثالوں میں سے ہیں یہ ہماری چوری ہوئی جو پیر صاحب نے پکڑی کہ بیس ہزار فقرہ میں سے دس باراں فقرے جن میں سے کوئی آیت قرآن شریف کی اور کوئی عرب کی مثال اور کوئی بقول اُن کے محمد حسین بٹالوی کہ جو نزول مسیح میں انہیں کے ہم عقیدہ ہیں اس تصفیہ کے لئے منصف مقرر کئے بقیہ حاشیہ جائیں پھر اگر مولوی صاحب موصوف یہ کہہ دیں کہ پیر جی کے عقائد صحیح ہیں اور مسیح ابن مریم کے متعلق جو کچھ انہوں نے سمجھا ہے وہی ٹھیک ہے تو فی الفور اُسی جلسہ میں یہ راقم ان کی بیعت کرے اور اُن کے خادموں اور مریدوں میں داخل ہو جائے اور پھر تفسیر نویسی میں بھی مقابلہ کیا جائے۔ یہ اشتہار ایسا نہ تھا کہ اُس کا مکر اور فریب لوگوں پر کھل نہ سکے آخر عقلمند لوگوں نے تاڑ لیا کہ اس شخص نے ایک قابل شرم منصوبہ کے ذریعہ سے انکار کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد بہت سے لوگوں نے میری بیعت کی اور خود اُن کے بعض مرید بھی اُن سے بیزار ہو کر بیعت میں داخل ہوئے ۔ یہاں تک کہ ستر ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کی تعداد پہنچ گئی اور مولویوں اور پیرزادوں اور گدی نشینوں کی حقیقت لوگوں پر گھل گئی کہ وہ ایسی کارروائیوں سے حق کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ منہ گویا ان کا نام مہر علی نہیں ہے بلکہ مہر علی ہے کیونکہ وہ اپنے عاجز اور ساکت رہنے سے کتاب اعجاز المسیح کے اعجاز پر مُمبر لگاتے ہیں ۔ منہ