نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 822

نزول المسیح — Page 435

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۱ نزول المسيح (۵۳) جو انہوں نے لاہور میں کی تھی یہ اس لئے ندامت مذکورہ بالا کا داغ دھونے کے لئے ضرور انہوں نے یہ ارادہ کیا ہوگا کہ میرے مقابل تفسیر نویسی کے لئے کچھ طبع آزمائی کریں اور میری کتاب اعجاز اسیح کی مانند سورۃ فاتحہ کی تفسیر عربی فصیح بلیغ میں شائع کردیں تا لوگ یقین کر لیں کہ پیر جی عربی بھی جانتے ہیں اور تفسیر بھی لکھ سکتے ہیں لیکن افسوس کہ میرا یہ خیال صحیح نہ نکلا جب ان کی کتاب سیف چشتیائی مجھے ملی تو پہلے تو اُس کتاب کو ہاتھ میں لے کر مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اب ہم ان کی عربی تفسیر دیکھیں گے اور ہم مقابل اُس کے ہماری تفسیر کی قدر و منزلت لوگوں پر اور بھی کھل جائے گی مگر جب کتاب کو دیکھا گیا اور اُس کو اردو زبان میں لکھا ہوا پایا اور تفسیر کا نام ونشان نہ تھا تب تو بے اختیار اُن کی حالت پر رونا آیا لاہور میں جو ایک قابل شرم کارروائی پیر مہر علی شاہ صاحب سے ہوئی وہ یہ تھی کہ انہوں نے بذریعہ ایک پر فریب حیلہ جوئی کے اس مقابلہ سے انکار کر دیا جس کو وہ پہلے منظور کر چکے تھے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب میری طرف سے متواتر دنیا میں اشتہارات شائع ہوئے کہ خدا تعالیٰ کے تائیدی نشانوں میں سے ایک یہ نشان بھی مجھے دیا گیا ہے کہ میں فصیح بلیغ عربی میں قرآن شریف کی کسی سورۃ کی تفسیر لکھ سکتا ہوں اور مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ میرے بالمقابل اور با لمواجہ بیٹھ کر کوئی دوسرا شخص خواہ وہ مولوی ہو یا کوئی فقیر گدی نشین ایسی تفسیر ہرگز لکھ نہیں سکے گا اور اس مقابلہ کے لئے پیر جی موصوف کو بھی بلایا گیا تاوہ اگر حق پر ہیں تو ایسی تفسیر بالمقابل بیٹھ کر لکھنے سے اپنی کرامت دکھلاویں یا ہمارے دعوی کو قبول کریں۔ تو اول تو پیر جی نے دُور بیٹھے یہ لاف مار دی کہ اس نشان کا مقابلہ میں کروں گا لیکن بعد اس کے اُن کو میری نسبت بکثرت روائتیں پہنچ گئیں کہ اس شخص کی قلم عربی نویسی میں دریا کی طرح چل رہی ہے اور پنجاب و ہندوستان کے تمام مولوی ڈر کر مقابلہ سے کنارہ کش ہو گئے ہیں تب اُس وقت پیر جی کو سو جبھی کہ ہم بے موقعہ پھنس گئے ۔ آخر حسب مثل مشہور کہ مرتا کیا نہ کرتا انکار کے لئے یہ منصوبہ تراشا کہ ایک اشتہار شائع کر دیا کہ ہم بالمقابل بیٹھ کر تفسیر لکھنے کے لئے تیار تو ہیں مگر ہماری طرف سے یہ شرط ضروری ہے کہ تفسیر لکھنے سے پہلے عقائد میں بحث ہو جائے کہ کس کے عقائد صحیح اور مسلم اور مدلل ہیں اور مولوی