نزول المسیح — Page 434
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۰ نزول المسيح ۵۲ بقیہ حاشیہ ۵۲ لکھ دیا ہے اور اس کتاب کے پہنچنے سے پہلے ہی مجھ کو یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ اعجاز اسی کے مقابل پر وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں مگر مجھ کو یہ امید نہ تھی کہ وہ میری عربی کتاب کا جواب اُردو میں لکھیں گے بلکہ مجھے یہ خیال تھا کہ چونکہ اکثر با سمجھ لوگوں نے پیر صاحب کی اس مکارانہ کارروائی کو پسند نہیں کیا سنیئے رسول خدا نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے بعد بہت کذاب پیدا ہوں گے اور جھوٹی حدیثیں میرے نام سے روایت کریں گے پس تم کو لازم ہے کہ اس وقت حدیث کو کتاب اللہ پر عرض کرو اگر موافق ہو تو لے لو ورنہ ترک کرو۔ پھر ہم بغیر اس معیار کے کسی حدیث کو کیونکر صحیح سمجھ سکتے ہیں جبکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معیار صحیح حدیث بتلا دیا ہے۔ اور مولانا صاحب نے بھی اس حدیث کو اپنے کسی رسالہ میں ذکر کیا ہوا ہے۔ پس یہ بات کہ جو حدیث کسی کتاب میں لکھی ہو وہ در حقیقت حدیث رسول ہوگی امر مسلم نہ رہا بلکہ جوحد بث مطابق کتاب اللہ ہوگی وہ حدیث رسول ہو گی ۔ دیکھیں اصول کافی کتاب العلم امام جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں۔ فما وافق کتاب الله فخذوه وما خالف فدعوه، كل حـديـث لا يـوافـق كتاب الله فهو زخرف ۔اصول کافی کے دیبا چہ ہی میں نظر کریں کہ ہمارے شیخ المحد ثین اپنے شیعوں کی احادیث کی نسبت کیا تحریر فرماتے ہیں۔ طرفہ بریں یہ کہ آپ تو ان علماء پر جن کی روایات آپ نے پیش کی ہیں تبرا بھیجتے ہیں۔ پھر اُن سے حجت پکڑنا چہ معنی دارد۔ دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو آپ میرزا صاحب کے اصول سے بکلی ناواقف ہیں یا عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ اب آخری فیصلہ بھی ذرہ سُن لیں۔ غاية المقصود حصہ اوّل صفحہ اسطر ۹ ملاحظہ ہو ۔ جناب مولانا صاحب نے خود تسلیم کر لیا ہے که ( نبوت افضل از امامت است قطعاً) اس جگہ امام حسین خود واقعی امام تھے ان کی نسبت کوئی استثناء ذکر نہیں فرمایا گیا پھر کس طرح یہ بات کہی جاتی ہے کہ امام حسین افضل ہیں سب انبیاء سے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ خاکسار نذ رعلی از پیشاور ۱۹۰۲ء