نزول المسیح — Page 432
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۲۸ نزول المسيح شہادت سے مسیح موعود حسین سے افضل ہے اور جامع کمالات متفرقہ ہے پھر اگر در حقیقت میں وہی مسیح (۵۰) موعود ہوں تو خود سوچ لو کہ حسین کے مقابل مجھے کیا درجہ دینا چاہیے اور اگر میں وہ نہیں ہوں تو خدا نے صد بانشان کیوں دکھلائے اور کیوں وہ ہر دم میری تائید میں ہے۔ ۵۰ بقیہ حاشیہ میں گردانا ہے۔ نوٹ ۔ (اس کا ثبوت ابھی آپ کے ذمہ باقی ہے ) اور اسی کے ذریعہ سے ان کی دعائیں قبول ہوئیں۔ اس لئے جس کا وسیلہ ڈالا جاتا ہے اور اس کے طفیل انبیاء علیہم السلام کی دعائیں قبول ہوتی ہیں وہ وسیلہ ضرور خدا کے نزدیک افضل ہوتا ہے ورنہ انبیاء علیہم السلام اس کو وسیلہ نہ گردانتے۔ یہ ہے آپ کی انوکھی منطق اور بوسیدہ علم کلام مثالاً۔ کیا اگر کوئی حکیم کسی مریض کو ایک نسخہ بتلا دے کہ اگر تم یہ نسخہ استعمال کرو تو تم اچھے ہو جاؤ گے اور تمہارا مرض سلب ہو جائے گا اور ایسا اتفاق بھی ہو جاوے کہ وہ مریض اچھا ہو جاوے تو کوئی عاقل اس سے یہ نتیجہ نکالے گا کہ وہ نسخہ افضل ہے بیمار سے۔ تعجب کا مقام ہے کہ جس الزام پر آپ نے اپنے مخالف کو کوسا کہ حسین سے اپنے کو افضل جتلاتے ہیں خود اس میں مبتلا ہو گئے کہ خود حسین کی فضیلت تمام انبیاء پر ثابت کرنے لگے۔ پھر دعوے تو اس قدر مگر دلیل ندارد۔ آپ کو چاہیے تھا کہ فضیلت کے وہ مدارج تحریر کرتے کہ ان ان باتوں سے حسین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جیسا کہ علماء امامیہ نے حضرت علی کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے بالمقابل باقی صحابہ کے مدارج فضیلت قائم کئے ہیں ۔ آپ کو چاہیے تھا کہ ( مثالاً ) تحریر کرتے کہ حضرت امام مظلوم حسین عابد تھے اور اس کے بالمقابل حضرت آدم یا حضرت نوح کی عبادت اُن سے بہت کم تھی یا حضرت حسین صابر اور شاکر تھے اور اس کے بالمقابل دیگر فلاں فلاں انبیاء میں صبر اور شکر کم تھا اور اس کمی کو اس ترازو میں بھی وزن کرتے جو آپ کے پاس ہے وغیرہ وغیرہ۔ جب اس قسم یا اس جیسے جو خیال آپ کے وجہ فضیلت قرار پاسکتے ہوں تمام مدارج اور اصول فضیلت بالمقابل باقی انبیاء علیہم السلام کے آپ بیان فرماتے اور ان کو نص یا حدیث صحیح اور تو اتر اور تعامل قومی سے بھی مؤکد کرتے تب اہل حق پر ظاہر ہو جاتا کہ واقعی امام حسین افضل ہیں دیگر انبیا ء پر۔ یہ خشک منطق کہ چونکہ انبیاء گذشتہ نے حسین کو وسیلہ اپنی دعاؤں میں خدا کے پاس گردانا ہے اس لئے وہ افضل ہیں ہمارے کس کام ۔ اول تو آپ قرآن سے ثابت کریں کہ واقعی حضرت آدم نے حسین کا نام لے کر اُن کو وسیلہ گردانا تھا۔ اس وقت حسین کہاں تھا نام لکھا ہوا دیکھا کہاں ذکر ہے قرآن میں کہ حضرت آدم نے ساق عرش پر اسماء پنجتن لکھے ہوئے دیکھے کہاں ذکر ہے کہ آدم نے