نزول المسیح — Page 429
۴۲۵ نزول المسيح روحانی خزائن جلد ۱۸ تمام انبیاء سے افضل ہے۔ کیا تعجب نہیں کہ قرآن ابو بکر کی تعریف کرے اور اس کی خلافت کی صریح لفظوں میں بشارت دے مگر حسین جو تمام انبیاء کا شفیع ہے اس کا سارے قرآن میں ذکر ندارد۔ پھر (۴۷) عجیب تریہ بات ہے کہ حسین کو یہ شرف بھی نصیب نہیں ہوا کہ وہ موت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے قریب دفن کیا جاتا مگر ابوبکر و عمر جن کو حضرات شیعہ کا فر کہتے ہیں بلکہ تمام کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے اگر وہ کافر تھے تو خدا نے ایسا کیوں کیا۔ کافر سے بدتر دنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔ کیا کوئی شیعہ راضی ہو سکتا ہے کہ اُس کی پاکدامن ماں ایک زانیہ کنجری کے ساتھ دفن کر دی جائے اور کا فر تو زنا کار سے بدتر ہے پھر خدا نے کیوں ایسا کیا کوئی عقلمند اور خدا سے ڈرنے والا اس کا جواب دے۔ غرض حسین کو نبیوں پر فضیلت دینا بیہودہ خیال ہے ہاں یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کا ذخیرہ ہوگا یا کچھ اور ۔ اگر آپ کہیں کہ تفسیر قرآن ہے تو ہم کہیں گے کہ پھر اس قدر مختلف الاقوال تفاسیر جن کی تعداد ہزار ہاسے بڑھ گئی کیوں شائع ہوئی ہیں اور ان میں اختلاف ہی کیوں واقع ہوا۔ اور حضرت مہدی آخر الزمان کی نسبت کیا آپ کے مسلمات میں درج نہیں کہ وہ اختلاف رفع کرنے کو آویں گے اور سب ادیان کو ایک دین بنادیں گے۔ کیا جب امام مہدی تشریف لاویں گے بلا وعظ اور بلانصیحت اور بلا تغیر و تبدل دین خود بخود ایک ہو جاوے گا آیا کچھ ترمیم و تنسیخ بھی کریں گے یا نہیں۔ کیا وہ ظاہر ہو کر مجہتدین کربلا کے فتوے پر چلیں گے یا مجتہدین نجف و ایران یا مجتہدین لکھنو ولا ہور۔ فرماویں وہ کس مجتہد کے مقلد ہوں گے اور کس کے فتوے پر عمل کریں گے نہیں میں بھول گیا وہ ضرور آپ کے فتوے پر چلیں گے ۔ مگر افسوس کہ آپ یہ بھی نہ مانیں گے۔ پس جو امام ہوتا ہے وہ کسی کا مقلد نہیں ہوتا بلکہ وہ خود حکم ہوتا ہے اس کے بالمقابل تفسیر برغانی اور دلائل النبوت کا حوالہ دینا کوئی عقلمند طبیعت اس کو جائز رکھ سکتی ہے ؟ ہاں اس کے مسلمات قرآن مجید اور سنت صحیحہ ہیں۔ میں بہت خوش ہوتا کہ جب آپ نے سورہ انعام کی آیت یاایھا الذین آمنوا الہ۔ پیش کی تھی اس کی تفسیر میں قران مجیدی سے ثابت کیا ہوتا کہ لفظ وسیلہ سے جو آیتہ مرقومہ بالا میں ہے حسین اور اُس کے آباء کرام مراد ہیں اور اپنے دعوے کو مؤکد کرنے کے لئے بخاری یا مسلم کی کوئی حدیث پیش کی ہوتی جو مدعی امامت کی مسلمہ کتب سے ہیں یا ذرا غصہ کو ٹال کر اپنی ہی تفسیروں مولوی صاحب کی تحریر کے مطابق ہم نے سورۃ الانعام لکھا ہے ورنہ آیت مذکورہ سورۃ مائدہ میں ہے ۔۱۲ منه ☆