نزول المسیح — Page 425
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۲۱ نزول المسيح کو روحانی سلسلہ سے ایک تعلق ہے سو تم نہ تو ظاہری طور پر زمین کے نجس حصوں کی طرف جھکو اور نہ روحانی طور پر بلکہ اگر ممکن ہو تو اوپر کے مکانوں میں رہو اور ہوا دار اور روشن مکان اختیار کرو اور نہ تم باطنی طور پر زمین کی طرف جھکو بلکہ آسمان میں سے حصہ لو۔ یہ جو اللہ تعالی نے قرآن شریف میں فرمایا کہ وہ دائبة الارض یعنی طاعون کا کیڑا زمین میں سے نکلے گا اس میں یہی بھید ہے کہ تا وہ اس بات ۴۳ کی طرف اشارہ کرے کہ وہ اُس وقت نکلے گا کہ جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابة الارض بن جائیں گے۔ ہم اپنی بعض کتابوں میں یہ لکھ آئے ہیں کہ اس زمانہ کے ایسے مولوی اور سجادہ نشین جو متقی نہیں ہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں یہ دائبة الارض ہیں اور اب ہم نے اس رسالہ میں یہ لکھا ہے کہ دابة الارض طاعون کا کیڑا ہے۔ ان دونوں بیانوں میں کوئی شخص تناقض نہ سمجھے ۔ قرآن شریف ذو المعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں تو جو ایک دوسرے کی ضد نہیں اور جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اُتر ا اسی طرح اس کے معارف بھی دلوں پر یکدفعہ نہیں اترتے۔ اسی بنا پر محققین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معارف بھی یکد فعہ آپ کو نہیں ملے بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے۔ ایسا ہی میں ہوں جو بروزمی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں۔ آنحضرت کی تدریجی ترقی میں سر یہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل معارف بھی تدریجی تھی اور اسی قدم پر مسیح موعود ہے جو اس وقت تم میں ظاہر ہوا۔ علم غیب خدا تعالی کا خاصہ ہے جس قدروہ دیتا ہے اُس قدر ہم لیتے ہیں۔ پہلے اُس نے غیب سے مجھے یہ فہم عطا کیا کہ ایسے سُست زندگی والے جو خدا اور اُس کے رسول پر ایمان تو لاتے ہیں مگر عملی حالت میں بہت کمزور ہیں یہ لوگ دابة الارض میں یعنی زمین کے کیڑے ہیں آسمان سے ان کو کچھ حصہ نہیں۔ اور مقدر تھا کہ آخری زمانہ میں یہ لوگ بہت ہو جائیں گے اور اپنے ہونٹوں سے اسلام کی شہادت دیں گے مگر ان کے دل تاریکی میں ہوں گے۔ یہ تو وہ معنی ہیں جو پہلے ہم نے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے نباتات وغیرہ میں کئی قسم کے خواص رکھے ہیں مثلا ایک بوٹی دماغ کو قوت دیتی ہے اور ساتھ ہی جگر کو بھی مفید ہے اسی طرح قرآن شریف کی ہر ایک آیت مختلف قسم کے معارف پر دلالت کرتی ہے۔ منہ