نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 822

نزول المسیح — Page 426

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۲۲ نزول المسيح شائع کئے اور یہ معنے بجائے خود صحیح اور درست ہیں۔ اب ایک اور معنے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس آیت کے متعلق کھلے جن کو ابھی ہم نے بیان کر دیا ہے یعنی یہ کہ دابۃ الارض سے مراد وہ کیٹر ا بھی ہے جو مقدر تھا جو مسیح موعود کے وقت میں زمین میں سے نکلے اور دنیا کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ کرے۔ یہ خوب یا د ر کھنے کے لائق ہے کہ جیسے یہ آیت دو معنوں پر مشتمل ہے ایسے ہی صد با نمونے اسی قسم کے کلام الہی میں پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اُس کو معجزانہ کلام کہا جاتا ہے جو ایک ایک ۲۳) آیت دین اوش پہلو پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ تمام پہلو صیح ہوتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے حروف اور اُن کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے مثلا سورۃ والعصر کی طرف دیکھو کہ ظاہری معنوں کی رو سے یہ بتلاتی ہے کہ یہ دنیوی زندگی جس کو انسان اس قدر غفلت سے گزار رہا ہے آخر یہی زندگی ابدی خُسران اور وبال کا موجب ہو جاتی ہے اور اس خُسر ان سے وہی بچتے ہیں جو خدائے واحد پر نیچے دل سے ایمان لے آتے ہیں کہ وہ موجود ہے اور پھر ایمان کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اچھے عملوں سے اس کو راضی کریں اور پھر اسی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ اس راہ میں ہمارے جیسے اور بھی ہوں جو سچائی کو زمین پر پھیلا دیں اور خدا کے حقوق پر کار بند ہوں اور بنی نوع پر بھی رحم کریں۔ لیکن اس سورۃ کے ساتھ یہ ایک عجیب معجزہ ہے کہ اس میں آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت کے زمانہ تک دنیا کی تاریخ ابجد کے حساب سے یعنی حساب جمل سے بتلائی گئی ہے۔ غرض قرآن شریف میں ہزار ہا معارف و حقائق ہیں اور در حقیقت شمار سے باہر ہیں۔ اسی بناء پر قرآن شریف فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں دوستم کے دابۃ الارض پیدا ہو جائیں گے(۱) ایک تو علماء بے عمل جن کے دل زمین کے ساتھ چسپاں ہوں گے زمین کی شہرت چاہیں گے۔ (۲) دوسرے طاعون کا کیٹر ا جو بطور سزا وہی ظاہر ہوگا۔ سو اس زمانہ میں دونوں باتیں ظہور میں آگئیں اور دراصل حدیثوں میں ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ملک میں طاعون پھوٹے گی اور شیعہ کی کتابوں کی حدیثوں میں بھی طاعون کا ذکر ہے اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ذکر ہے کہ اس وقت اکثر علماء یہودی صفت ہو جائیں گے یعنی محض زمین کے