نزول المسیح — Page 415
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۱۱ نزول المسيح انگریزی گورنمنٹ کو طاقتور پایا اور اطاعت قبول کر لی مگر یہ لوگ اب تک آسمانی گورنمنٹ کے باغی ہیں۔ خدا کے نشانوں کو نہیں دیکھتے۔ اُمت ضعیفہ کی ضرورت پر نظر نہیں ڈالتے۔ صلیبی غلبہ کا مشاہدہ نہیں کرتے اور ہر روزہ ارتداد کا گرم بازار دیکھ کر اُن کے دل نہیں کانپتے ۔ اور جب اُن کو کہا جائے کہ عین ضرورت کے وقت میں تین صدی کے سر پر تین غلبہ صلیب کے ایام میں یہ مجد د آیا جس کا نام ان معنوں سے مسیح موعود ہے کہ جو اسی صلیبی فتنہ کے وقت میں ظاہر ہوا تو کہتے ہیں کہ حدیثوں میں ہے کہ اس اُمت میں تمیں دجال آدیں گے کہ تا اُمت کا اچھی طرح خاتمہ کر دیں۔ کیا خوب عقیدہ ہے!!! اے نادانوں کیا اِس اُمت کی ایسی ہی پھوٹی ہوئی قسمت اور ایسے ہی بد طالع ہیں کہ اُن کے حصہ میں تمہیں دجال ہی رہ گئے ۔ دجال تو تھیں مگر طوفان صلیب کے فرو کرنے کے لئے ایک بھی مجدد نہ آسکا زہے قسمت۔ خدا نے پہلی امتوں کے لئے تو پے در پے نبی اور رسول بھیجے لیکن جب اس اُمت کی نوبت آئی تو اس کو تین دجال کی خوشخبری سنائی گئی اور پھر یہ بھی ثابت شدہ پیشگوئی ہے کہ آخر کا ر اس اُمت کے علماء بھی یہودی بن جائیں گے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اب تک لاکھوں آدمی مُرتد ہو چکے جنہوں نے دین اسلام کو ترک کر دیا پس کیا اس درجہ کی ضلالت تک ابھی خدا خوش نہ ہوا اور اس کے دل کو سیری نہ ہوئی جب تک اُس نے خود اسی اُمت میں سے صدی کے سر پر ایک دجال بھیج نہ دیا۔ خوب اُمت مرحومہ ہے جس کے حق میں یہ عنایات ہیں اور پھر یہ کہ باوجود یکہ اس دجال کے مارنے کے لئے مومنوں کے سجدات میں ناک گھس گئے ۔ لاکھوں دعا ئیں اور تدبیریں اُس کی ہلاکت اور تباہی کے لئے کی گئیں مگر خدا (۴۳۳ نہیں سنتا منہ پھیر لیتا ہے بلکہ برعکس اس کے یہ دجال برابر تمہیں برس سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا میں آسمان کے نور کی طرح پھیلتا جاتا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ امت نہایت ہی