نزول المسیح — Page 414
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۱۰ نزول المسيح شائع کئے آخر وہ بھی جلد دنیا سے رخصت ہو گیا۔ پھر عبدالحق غزنوی اُٹھا اور بالمقابل مباہلہ کر کے دُعائیں کیں کہ جو جھوٹا ہے خدا کی اُس پر لعنت ہو برکتوں سے محروم ہو دنیا میں اُس کی قبولیت کا نام ونشان نہ رہے۔ سو تم خود دیکھ لو کہ ان دعاؤں کا کیا انجام ہوا اور اب وہ کس حالت میں اور ہم کس حالت میں ہیں۔ دیکھو اس مباہلہ کے بعد ہر یک بات میں خدا نے ہماری ترقی کی اور بڑے بڑے نشان ظاہر کئے آسمان سے بھی اور زمین سے بھی اور ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور جب مباہلہ ہوا تو شاید چالیس آدمی میرے دوست تھے * اور آج ستر ہزار کے قریب اُن کی تعداد ہے اور مالی فتوحات اب تک دو لاکھ روپیہ سے بھی زیادہ اور ایک دنیا کو غلام کی طرح ارادت مند کر دیا اور زمین کے کناروں تک مجھے شہرت دے دی ۔ لطف تب ہو کہ اوّل قادیان میں آؤ اور دیکھو کہ ارادت مندوں کا لشکر کس قدر اس جگہ خیمہ زن ہے اور پھر امرتسر میں عبد الحق غزنوی کو کسی دوکان پر یا بازار میں چلتا ہوا دیکھو کہ کس حالت (۳۳) میں چل رہا ہے ۔ بڑا افسوس ہے کہ خدا کی طاقت کھلے کھلے طور پر میری تائید میں آسمان سے نازل ہو رہی ہے مگر یہ لوگ شناخت نہیں کرتے ۔ ٹرنسوال اور دولت برطانیہ کی صلح ہوگئی ۔ مگر ان لوگوں کا اب تک جنگ باقی ہے ٹرنسوال نے عقلمندی کر کے لا حاشیہ عبدالحق کا یہ مباہلہ بھی اس بات پر دلالت کرتا تھا کہ اس کو خدا اور رسول کی کچھ بھی پروا نہیں کیونکہ جبکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ عیسی فوت ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دے دی کہ میں اُس کو مردہ روحوں میں دیکھ آیا ہوں اور صحابہ نے اجماع کر لیا کہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور ابن عباس نے بخاری میں توقی کے معنی بھی موت کر دیئے تو اس صورت میں مباہلہ کے معنی بجز اس کے کیا تھے کہ میں خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ منہ