نزول المسیح — Page 401
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۹۷ نزول المسيح اور پھر بعد اس کے لکھا ہے کہ یہ بھی اس کے ظہور کی ایک نشانی ہے کہ قبل اس کے کہ قائم ہو یعنی عام طور پر 19 قبول کیا جائے دنیا میں سخت طاعون پڑے گی یہاں تک کہ ایک گھر میں جو سات آدمی ہوں گے اُن میں سے صرف دورہ جائیں گے اور پانچ مرجائیں گے۔ پس اس کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں نشان اُس وقت ظہور میں آئیں گے جبکہ اس کی دنیا میں تکذیب ہوگی۔ کیونکہ مسیح کے بھی یہ دونوں نشان تھے جبکہ عیسی علیہ السلام کی تکذیب ہو کر اُن کے لئے صلیب تیار کیا گیا تھا تب آفتاب و ماہتاب دونوں تاریک ہو گئے تھے اور طاعون بھی پڑی تھی۔ غرض اس کتاب میں لکھا ہے کہ رمضان میں خسوف کسوف ہونا اور ملک میں طاعون پھیلنا مہدی معہود کا ایک معجزہ ہوگا۔ پس بلا شبہ یہ امر تو اتر کے درجہ پر پہنچ چکا ہے کہ مسیح موعود کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے وقت میں اور اس کی توجہ اور دُعا سے ملک میں طاعون پھیلے گی آسمان اس کے لئے چاند اور سورج کو رمضان میں تاریک کرے گا اور زمین اُس کے لئے طاعون کی تاریکی اور مصیبت پھیلائے گی کیونکہ وہ ابتدا میں قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے انذاری نشان اُس کے لئے ظاہر ہوں گے اور اُس کے نفس سے یعنی توجہ اور دعا اور اتمام حجت سے کافرمریں ے اور وہ مرنا دو قسم کا ہوگا (۱) ایک تو روحانی طور پر کہ اس کے وقت میں تمام مذاہب بجز اسلام مُردہ ہو جائیں گے (۲) دوسرے جسمانی طور پر ۔ چونکہ وہ ستایا جائے گا اور دکھ دیا جائے گا اس لئے خدا کا غضب مخلوق پر بھڑ کے گا۔ تب وہ ایسی موتوں کا سلسلہ جاری کر دے گا کہ نمونہ قیامت ہو جائیں گی۔ تب انجام کار لوگ سوچیں گے کہ کیوں یہ آفتیں ہم پر پڑ گئیں اور سعیدوں کا راہ دکھلایا جائے گا۔ غرض عام موتوں کا پانا مسیح موعود کی علامات خاصہ میں سے ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام گواہی دیتے آئے ہیں۔ حاشیه : یہ عجیب مشابہت ہے کہ حضرت عیسی کے وقت میں بھی باعث سخت آندھی کے سورج اور چاند کی روشنی روزہ کے دن میں یکدفعہ جاتی رہی تھی اور پھر زمین پر طاعون بھی پڑی یہ دونوں باتیں اب بھی ظہور میں آ گئیں۔ یعنی بذریعہ خسوف کسوف رمضان میں تاریکی بھی ہوگئی جیسا کہ یہود کے روزہ کے دن تاریکی ہو گئی تھی اور پھر طاعون سے بھی دنیا تباہ ہوگئی ۔ منا