نزول المسیح — Page 400
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۹۶ نزول المسيح ۱۸ سے خواہ کسی اور سبب سے وہ سب انسانی برداشت کی حد تک اُس میں ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ اس مامور کی کارروائی کی حارج نہیں ہیں۔ پس جس الہام کو ہم نے قادیان کے بارے میں شائع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے اس سے زیادہ نہیں۔ بعض آدمی یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں امن اور آسائش کا زمانہ ہوتا چاہیے تھا نہ کہ طاعون ملک میں پھیلے اور قحط پڑے اور طرح طرح کے اسباب سے کثرت موت ہو۔ ان اوہام باطلہ کا یہ جواب ہے کہ انسان کا اختیار نہیں ہے کہ اپنی طرف سے حکم چلا دے کہ یوں ہونا چاہیے تھا اور اس طرح ہونا چاہیے تھا۔ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں بہت تصریح سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ضرور طاعون پڑے گی اور اس میر ی کا انجیل میں بھی ذکر ہے اور قرآن شریف میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِنْ مِنْ قَرْيَةِ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيِّمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوهَا الخ یعنی کوئی بستی ایسی نہیں ہوگی جس کو ہم کچھ مدت پہلے قیامت سے یعنی آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہے ہلاک نہ کر دیں یا عذاب میں مبتلا نہ کریں۔ یا در ہے کہ اہل سنت کی صحیح مسلم اور دوسری کتابوں اور شیعہ کی کتاب اکمال الدین میں بتفریح لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ اکمال الدین جو شیعہ کی بہت معتبر کتاب ہے اُس کے صفحہ ۳۴۸ میں اول چار حدیثیں کسوف خسوف کے بارہ میں لایا ہے اور امام باقر سے روایت کرتا ہے کہ مہدی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ قبل اس کے کہ وہ قائم ہو یعنی عام طور قبول کیا جاوے رمضان میں کسوف خسوف ہو گا۔ ہیں حاشیہ حضرت مسیح بروز جمعہ بوقت عصر صلیب پر چڑھائے گئے تھے جب وہ چند گھنٹہ کیلوں کی تکلیف اُٹھا کر بیہوش ہو گئے اور خیال کیا گیا کہ مرگئے تو یکدفعہ سخت آندھی اٹھی اور اس سے سورج اور چاند دونوں کی روشنی جاتی رہی اور تاریکی ہو گئی۔ وہ دسویں محرم تھی اور اُس دن یہود کو روزہ تھا اور دوسرے دن ان کی عید فسح تھی ان بزرگوں نے عین روزہ کی حالت میں اپنی دانست میں یہ ثواب کا کام کیا مطلب یہ تھا کہ حضرت مسیح کو کسی طرح لعنتی ثابت کریں۔ ایسا ہی مسیح موعود پر جب کفر اور قتل کا فتویٰ لگایا گیا تو اس کے بعد رمضان میں کسوف خسوف ہوا تا دونوں واقعات میں مشابہت ہو کیونکہ جس طرح عیسی مسیح استعارہ کے رنگ میں مُردوں میں سے جی اُٹھا اسی طرح اس مسیح کو تکفیر کی دوستو مہر سے اپنی دانست میں ہلاک کر دیا گیا تھا مگر پھر وہ جی اٹھا اور کھڑا ہو گیا۔ اس لئے امام قائم کہلایا۔ منہ بنی اسرائیل : ۵۹