نزول المسیح — Page 399
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۹۵ نزول المسيح تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ یہ جماعت جو قادیان میں بیٹھی ہے وہ سب مع ان کے امام کے سے ایک تباہ ہوں گے اور سب طاعون سے مریں گے اور یہ خدا کو منظور نہیں کیونکہ یہ اس کی قوم ہے جو اس نے طیار کی ہے۔ اور یہ جو بھیجا گیا ہے یہ اُس کے ہاتھ کا پودہ لگایا ہوا ہے۔ پس کیونکر وہ اپنے باغ کو خود کاٹ دیوے جو اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ پس اس لئے اور اسی غرض سے تمام گاؤں کو تخفیف عذاب کی رعایت دی گئی ہے یہ ایسی ہی مثال ہے کہ مثلاً ایک جہاز میں ایک خدا کا برگزیدہ سوار ہو ۔ تا وہ کسی ملک میں جا کر تبلیغ کرے اور اس حالت میں سمندر میں طوفان آوے۔ پس سنت اللہ کے موافق یہ ضروری امر ہے کہ اس جہاز میں بہت سے ایسے لوگ سوار ہوں کہ جو غرق کرنے کے لائق ہوں مگر وہ اس شخص کے لئے فرق نہیں کئے جاویں گے کیونکہ اُن کے غرق ہونے سے اس برگزیدہ پر بھی صدمہ آتا ہے اور یہ خدا کو منظور نہیں۔ یادر ہے کہ معمولی حد تک موتیں ایک محفوظ جہاز میں بھی ہو جاتی ہیں۔ مگر وہ جہاز کے مسافروں کی بے امنی کو اس حد تک نہیں پہنچا تھیں کہ وہ بے حواس ہو کر جہاز پر سے کود پڑیں اور سب ایک زبان سے ہائے وائے کے نعرے نکالیں ۔ مگر یہ خوفناک موتیں جو جہاز کسی ٹھوکر سے یکدفعہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اس میں بیٹھنے والے بیکبارگی پانی میں بہ جائیں اور سمندر کی لہریں ان کو ڈھانک لیں یہ عظیم حادثہ ہے اور ایسا مہلک حادثہ کبھی اس حالت میں نہیں ہوتا جبکہ ایسے جہاز میں خدا کا کوئی نبی اور رسول اور برگزیدہ بیٹھا ہو بلکہ اس کے طفیل اور اس کی شفاعت سے دوسرے لوگ بھی کنارہ پر سلامت پہنچائے جاتے ہیں تا خدا کا ایک کامل بندہ جو خدا کے جلال کے لئے سفر کر رہا ہے اس تشویش اور تباہی میں شریک نہ ہو اور تا وہ کام معطل نہ رہ جائے جس کام کے لئے اس نے سفر کیا ہے۔ اسی سنت اللہ کے موافق قادیان کے لئے اللہ اوی القریة کا الہام صادر ہواتا خدا کے کاموں میں حرج نہ ہو ورنہ قادیان سب سے پہلے فنا کرنے کے لائق تھی کیونکہ یہ لوگ نزدیک ہو کر پھر دور ہیں اور بہتوں کا خدا پر ایمان نہیں اور نہ چاہتے ہیں کہ اپنا نا پاک چولہ اتار کر حق کو قبول کریں۔ غرض یہ سنت اللہ ہے کہ جس گاؤں یا شہر میں خدا کا کوئی فرستادہ نازل ہو تو وہ گاؤں یا شہر نہ تو طاعون سے تباہ اور ہلاک ہوتا ہے اور نہ کسی اور وبا سے اور نہ کسی آتش فشاں پہاڑ سے ہلاک کیا جاتا ہے۔ ہاں معمولی موتیں خواہ طاعون سے ہوں خواہ ہیضہ