نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 822

نزول المسیح — Page 393

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۸۹ نزول المسيح کینہ وری کی راہ سے جھوٹ بولا جائے ؟ جن کو وہ کمال بے حیائی سے مُردوں میں داخل کرتا ہے وہ تو ہے ایک دن کے لئے بھی بیمار نہ ہوئے اور نہ گاؤں سے باہر نکالے گئے ۔ مثلاً جیسا کہ پیسہ اخبار نے اخویم مکرم مولوی حکیم نور دین صاحب کی نسبت شائع کیا کہ ان کی کوئی رشتہ دار عورت طاعون سے مرگئی اور بعض نے یہ مشہور کیا کہ وہ مولوی صاحب کی ساس تھی۔ اور بعض خبیثوں نے یہ شہرت دی کہ وہ آپ کی بیوی تھی حالانکہ نہ ساس نہ بیوی نہ کوئی اور رشتہ دار مولوی صاحب موصوف کا طاعون سے فوت ہوا اور نہ گاؤں سے باہر نکالا گیا۔ یہ کس قدر خباثت اور بے ایمانی ہے کہ ایسے صریح جھوٹ جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں ایسے اخبار میں درج کئے جائیں جس کے کئی ہزار پر چے ہفتہ وار شائع ہوتے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے ناحق مولوی صاحب موصوف کے عزیزوں اور رشتہ داروں کو رنج پہنچایا اور بے وجہ دلوں کو صدمہ پہنچا کر سخت دل آزاری کا موجب ہوا ۔ اس کو کیا خبر نہیں تھی کہ قادیان میں اکثر آریہ وغیرہ مذہب اسلام سے اور بالخصوص اس جماعت سے سخت عداوت رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے نزدیک جھوٹ بولنا شیر مادر ہے شیاطین ہیں نہ انسان۔ پھر کیوں اور کس وجہ سے ان کی ایسی جھوٹی خبروں کو اخبار میں درج کر کے شائع کیا گیا اب جواب کا کون ذمہ وار ہے کہ اس قدر گندے جھوٹ سے ایک جماعت کا دل دکھایا گیا۔ ایسا شخص جو ملک میں بے امنی پھیلانا چاہتا اور زندوں کو مار رہا ہے اور اپنے اندرونی کینوں کی وجہ سے امن عامہ کا دشمن ہے۔ بے شک وہ اس لائق ہے کہ قانون کی حد تک اس سے مواخذہ ہو کہ اس نے ایسا گندہ اور دل آزار جھوٹ ملک میں پھیلایا۔ اور اخویم مکرم مولوی نور دین صاحب کے اقارب کی نسبت ایک بے اصل صدمہ پہنچانے والی بات کو شہرت دی اور بہت سے دلوں کو صدمہ پہنچایا اور نہ صرف اسی قدر بلکہ پہلے فرضی طور پر زندہ کو مارا اور پھر اس فرضی مینیت کی تذلیل کی۔ کیا اخبار کا یہی فرض ہوتا ہے کہ ہر ایک روایت بغیر تفتیش اور تنقید کے شائع کر دی جائے۔ ہمیں تو کچھ انگریزی قانون کا حال معلوم نہیں اگر گورنمنٹ نے اپنے قانون میں اخبار نویسوں کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ ایسے بے اصل جھوٹ جن سے دلوں کو آزار اور صدمہ پہنچتا ہے بے دھڑک شائع کر دیا کریں تب تو کوئی چون و چرا کی جگہ نہیں ورنہ گورنمنٹ پلک پر احسان کرے گی اگر ایسے گندے