نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 822

نزول المسیح — Page 392

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۸۸ نزول المسيح ۱۰) فرار و انتشار نہ ہو کیونکہ شاذ و نادر معدوم کا حکم رکھتا ہے (۲) دوسرے یہ امر ضروری ہے کہ جن دیہات اور شہروں میں بمقابلہ قادیان کے سخت سرکش اور شریر اور ظالم اور بد چلن اور مفسد اور اس سلسلہ کے خطرناک دشمن رہتے ہیں اُن کے شہروں اور دیہات میں ضرور بر بادی بخش طاعون پھوٹ پڑے گی (اگر تو بہ نہ کریں ) اور یہاں تک ہوگا کہ لوگ بے حواس ہو کر ہر طرف بھاگیں گے۔ اور ہم دعوی سے لکھتے ہیں کہ قادیان میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے مگر اس کے مقابل پر دوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی (اگر تو بہ نہ کریں ) تمام دنیا میں ایک قادیان ہی ہے جس کے لئے اب یہ وعدہ ہوا کو پہلے سے حرم رسول کے لئے بھی ایک وعدہ ہے۔ یہ عبارت ہے جو صفحہ مذکور میں درج ہے جس کو ہم نے لفظ بلفظ اس جگہ نقل کر دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارا ہر گز یہ دعوئی نہ تھا کہ قادیان طاعون سے بالکل محفوظ رہے گی۔ ہم نے عام لوگوں کے سامنے یہ عبارت جو دافع البلاء میں شائع ہو چکی ہے رکھ دی ہے تا خودلوگ پڑھ لیں اور پھر انصافا بتلا دیں کہ ہمارے پر یہ الزام کہ گویا ہم نے اس رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ قادیان کے نزدیک طاعون نہیں آئے گی اور ایک بھی کیس نہیں ہوگا ۔ کیا بی ایمانداری ہے یا بے ایمانی ؟ ہم خود منتظر ہیں کہ اس وحی اللہ کے مطابق قادیان میں صاف اور صریح طور پر بعض کیس طاعون ہوں لیکن اب تک جو کچھ پیسہ اخبار اور بعض دوسرے جلد باز اڈیٹروں نے لکھا ہے کہ قادیان میں سات کیس ہو چکے ہیں وہ تحریریں صرف تین قسم کے واقعات کا مجموعہ ہیں۔ (۱) اول ایسی تحریریں جو محض جھوٹ اور افترا ہیں یعنی ایسے لوگوں کی نسبت خواہ نخواہ جھوٹی خبریں موت کی شائع کی گئی ہیں جواب تک زندہ موجود ہیں ۔ نہ وہ بیمار ہوئے نہ اُن کو طاعون ہوئی۔ یہ اول درجہ کا جھوٹ ہے جس کے ارتکاب سے پیسہ اخبار نے بے ایمانی کا بڑا حصہ لیا ہے اور نا حق شریف اور عزیز لوگوں کا دل دُکھایا ہے۔ اُس کو سوچنا چاہیے کہ اگر یہ خلاف واقعہ خبر اُس کے عزیزوں تک پہنچائی جائے کہ محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار طاعون سے مرگیا تو کیا ان کو کچھ صدمہ پہنچے گا یا نہیں تو پھر وہ جواب دے کہ ایسا جھوٹ اُس نے کیوں بولا اور کس غرض سے بولا اور کیوں خلاف گوئی کی نجاست کھا کر شریف اور معزز لوگوں کو دُکھ دیا۔ کیا یہ لعنتی زندگی نہیں کہ ناحق