نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 822

نزول المسیح — Page 391

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۸۷ نزول المسيح نہیں سنتے اور سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتے۔ اُن میں سے جھوٹ بولنے کا سرغنہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر ہے جو بارہا (9) دروغ گوئی کی رسوائی اُٹھا چکا ہے اور پھر باز نہیں آتا۔ وہ میری نسبت آپ ہی اقرار کرتا ہے کہ انہوں نے قادیان کے بارے میں صرف اس قدر الہام شائع کیا ہے کہ اس میں تباہی ڈالنے والی طاعون نہیں آئے گی ہاں اگر کچھ کیس ہو جائیں جو موجب افراتفری نہ ہوں تو یہ ہوسکتا ہے اور پھر اپنے دوسرے پر چوں میں فریاد پر فریاد کر رہا ہے کہ قادیان میں طاعون آگئی۔ اگر اس کی فطرت کو ایمانداری اور انصاف اور شرم میں سے کچھ حصہ ہوتا تو اس فضول بحث کا نام ہی نہ لیتا۔ کیونکہ اگر قادیان میں باعث عام بخار کے جو موسمی تھا دو تین آدمی مر بھی گئے تو کس ڈاکٹر نے تصدیق کی تھی کہ وہ طاعون ہے۔ کیا قادیان کے احمق اور جاہل اور مبینہ طبع بعض آریہ یا اور کوئی اُن کا ہم مادہ جو حق اور سچائی سے دلی کینہ رکھتے ہیں اور اُن کی کھو پری میں یہ عقل ہی نہیں جو طاعون کس کو کہتے ہیں اُن کی شرارت آمیز کسی تحریر سے یہ ثابت ہو گیا جو قادیان میں طاعون پھوٹ پڑی اُن کے ایمان اور دیانت پر خود طاعون کا پھوڑا نکلا ہوا ہے جس سے جان برمی مشکل ہے۔ ماسوا اس کے اگر اڈیٹر پیسہ اخبار کو دیانت اور سچائی سے کچھ غرض ہوتی تو اس کو ثابت کرنا چاہیے تھا کہ کس طرح اشتہار یا رسالہ میں ہم نے یہ بھی لکھا ہے کہ قادیان میں کبھی طاعون نہیں آئے گی اور کبھی ایک کیس بھی نہ ہوگا بلکہ رسالہ دافع البلاء جو پانچ ہزار شائع کیا گیا ہے اس کے صفحہ ۵ کے حاشیہ میں بتفریح تمام یہ عبارتیں لکھی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں :۔ طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون سخت بر بادی بخش ہے جس کا نام طاعون جارف ہے یعنی جھاڑو دینے والی جس سے لوگ جابجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے ( اور کم سے کم آبادی کا ایک عشرلیتی ہے ورنہ نصف تک یا تین حصے پانچ حصوں میں سے کھا جاتی ہے ) پس اس کلام الہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہیں ہوگی۔ اس کی تشریح دوسرا الہام کرتا ہے لولا الاکرام لهلک المقام یعنی اگر مجھے اس سلسلہ کی عزت ملحوظ نہ ہوتی تو میں قادیان کو بھی ہلاک کر دیتا۔ اس الہام سے دو باتیں سمجھی جاتی ہیں (۱) اوّل یہ کہ کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں کوئی واردات شاذ و نادر طور پر ہو جائے جو بر بادی بخش نہ ہو اور موجب