نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 822

نزول المسیح — Page 388

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۸۴ نزول المسيح کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر گئے یہاں تک کہ حکام تک جھوٹی مخبریاں بھی کیں خون کے جھوٹے مقدموں کے گواہ بن کر عدالتوں میں گئے اور تمام مسلمانوں کو میرے پر ایک عام جوش دلایا اور ہزار ہا اشتہار اور رسالے لکھے اور کفر اور قتل کے فتوے میری نسبت دئے ۔ اور مخالفانہ منصوبوں کے لئے کمیٹیاں کیں مگر ان تمام کوششوں کا نتیجہ بجز نامرادی کے اور کیا ہوا۔ پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور اُن کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا ۔ کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند تر قی کر گیا۔ پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ ختم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صغیر ہستی پر اس کا نام ونشان نہ رہے مگر وہ تم بڑھا اور پھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دور دور چلی گئیں اور اب وہ درخت اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پر ند اس پر آرام کر رہے ہیں۔ اور اس نشان کے ساتھ ایک عظیم الشان نشان یہ ہے کہ آج سے تیس برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے کہ لوگ کوشش کریں گے کہ اس سلسلہ کو مٹادیں اور ہر ایک مکر کام میں لائیں گے مگر میں اس سلسلہ کو بڑھاؤں گا اور کامل خیال کر لیا۔ مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ حدیثوں سے صاف طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا میں ظاہر ہوں گے اور حضرت مسیح بھی مگر دونوں بروزی طور پر آئیں گے نہ حقیقی طور پر ۔ یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح کے مقابل پر یہودی بھی جوش و خروش کریں گے مگر وہ یہودی بھی بروزی ہیں نہ حقیقی۔ قدیم سے حدیثوں میں یہ تشریح ہے کہ انہی مولویوں کا نام اُس وقت یہودی رکھا جائے گا اور در حقیقت سورۃ فاتحہ نے بکمال صفائی یہ پیشگوئی کر دی ہے کیونکہ سورہ فاتحہ میں یہ دُعا سکھلائی گئی کہ ایسا نہ ہو کہ ہم وہ یہودی بن جائیں جو عیسی علیہ السلام کے دشمن تھے۔ پس مسلمان لوگ ایسے یہودی کیونکر بن سکتے ہیں جب تک اُن میں بروزی طور پر مسیح موعود پیدا نہ ہو اور اُس کی مخالفت نہ کریں۔ منہ ۔