نزول المسیح — Page 389
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۸۵ نزول المسيح کروں گا اور وہ ایک فوج ہو جائے گی۔ اور قیامت تک اُن کا غلبہ رہے گا اور میں تیرے نام کو دنیا (۷) کے کناروں تک شہرت دُوں گا اور جوق در جوق لوگ دُور سے آئیں گے اور ہر ایک طرف سے مالی مدد آئے گی۔ مکانوں کو وسیع کرو کہ یہ طیاری آسمان پر ہورہی ہے۔ اب دیکھو کس زمانہ کی یہ پیشگوئی ہے جو آج پوری ہوئی۔ یہ خدا کے نشان ہیں جو آنکھوں والے ان کو دیکھ رہے ہیں مگر جو اندھے ہیں اُن کے نزدیک ابھی تک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ اس صدی میں سے بیسواں سال بھی شروع ہو گیا مگر اُن کا مجد داب تک نہ آیا ۔ آسمان نے رمضان کے کسوف خسوف سے گواہی دی اور یہ گواہی نہ صرف سنیوں کی کتاب دار قطنی میں درج ہے بلکہ شیعوں کی کتاب اکمال الدین نے بھی جو نہایت معتبر سمجھی جاتی ہے۔ یہی حدیث کسوف و خسوف کی مہدی موعود کی علامت لکھی ہے مگر پھر بھی ان لوگوں نے صریح بے ایمانی سے اس حدیث کو بھی رڈ کر دیا۔ کیا با وجود اتفاق دو فرقوں کے پھر بھی یہ حدیث صحیح نہیں ؟ ایسا ہی طاعون کی حدیث کتاب اکمال الدین میں بھی موجود ہے اور سنیوں کی کتابوں میں بھی کہ مسیح کے زمانہ میں طاعون پھیلے گی۔ مگر افسوس کہ ان لوگوں کے نزدیک یہ نشان بھی کچھ نشان نہیں۔ صلیبی جوش کی حالت موجودہ نے بھی تقاضا کیا کہ آسمان سے کوئی ایسا پیدا ہو کہ جو اس فتنہ کو فرو کرے مگر اُن کے نزدیک ابھی کچھ حرج نہیں ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس اپنے بندہ کی تائید میں ڈیڑھ سو کے قریب نشانات دکھلائے جس کے ملک میں لاکھوں انسان گواہ ہیں جو عنقریب ایک نقشہ کی صورت میں شائع کئے جائیں گے مگر ان لوگوں کے نزدیک اب تک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا اب نہ معلوم یہ نشان کس کو کہتے ہیں؟ اس کا جواب خدائے قادر خود ہی دے گا کیونکہ اگر وہ ارادہ کرے تو بڑے سے بڑے سچ طبع کو قائل کر سکتا ہے۔ چونکہ اس رسالہ میں اختصار منظور ہے اس لئے ہم اس سے زیادہ لکھنا نہیں چاہتے ہمارا اور ان لوگوں کا آسمان پر مقدمہ دائر ہے۔ وہ حقیقی بادشاہ جو آسمان اور زمین کا مالک ہے وہ ایک دن اس مقدمہ کو فیصلہ