نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 231

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۳۱ نور الحق الحصة الثانية من أسباب أُثبتت بالبرهان، وفُصِّلتُ في الكتب بتفصيل البيان، فما لها سے ان اسباب سے ہوتا ہے جو کتابوں میں درج ہیں۔ پس ان کو ان آفات ولآفات تتوجه إلى نوع الإنسان، عند كثرة العصيان؟ لأن الأمر الذى کیا تعلق ہے جو انسان پر گناہوں کی شامت سے آتی ہیں کیونکہ عارفوں کے نزدیک یہ بات مُثْبَتْ عند أولى العرفان هو أن الله خلق الإنسان ليدخله في المحبوبين مسلم ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کو محبوبوں میں یا مردودوں المقبولين أو المردودين المطرودين۔ وجعل تغيراتِ العالم دالةً على خيره میں داخل کرے اور اللہ تعالیٰ نے تمام تغیر عالم کے انسان کی خیر اور شراور نفع اور ضرر وشره، ونفعه وضرّه ، وجعل العالم له كمثل المبشرين والمنذرين؛ وكلما پر دلالت کرنے والے پیدا کئے ہیں اور اس کے لئے تمام عالم کو مبشر اور منذر کی طرح بنا دیا ہے اور ہر یک أراد الله من عذاب وتعذيب أهل الزمان، فلا ينزل إلا بعدما أذنبت أيدى وہ عذاب جو خدا تعالیٰ نے انسانوں کی سزا دہی کے لئے مقرر کیا ہے وہ قبل اس کے جو انسان گناہ کرے الإنسان، وأصرّ عليه كإصرار أهل الطغيان، واعتدى كالمجترئين۔ وقد اور گناه پر اصرار کرے اور حد گذر جائے نازل نہیں ہوتا۔ جعل لكل شيء سببًا فى العالمين، وجعل كل آية مخوّفة في الزمان تنبيها اور خدا تعالیٰ نے عالم میں ہر ایک شے کے لئے ایک سبب بنایا ہے اور ہر ایک ڈرانے والا نشان بدبختوں اور لأهل الشقاوة والخسران، وإنذارًا للمسرفين، ومبشرةً للذين نزلوا زیادتی کرنے والوں کے لئے مقرر کیا ہے۔ اور وہ نشان ان کے لئے مبشر ہے جو بحضرة الوفاء ، وحـلـوا مـحـلّ الصفاء والاصطفاء منقطعين۔ وهذه سنة وفا کے آستانہ پر اتر آئے اور صفا اور اصطفاء میں منقطع ہو کر نازل ہوئے۔ اور یہ ایک سنت مستمرة ، وعادة قديمة، تجد آثارها في قرون خالية، من حضرة متعالية ہے جس کے آثار تو پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف پائے گا۔ قدیمہ