نورالحق حصہ دوم — Page 213
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۱۳ نور الحق الحصة الثانية ولا تَشُظَيَنْ مِثل الشَّدَى أو ضالع وكُن في شوارعه ضَلِيعًا نَاضِيا اور چلنے سے مت عاری ہو جیسے کتے کی لکھی اور وہ گھوڑا جو پیر میں لنگ رکھتا ہے اور خدا تعالی کی راہوں میں ایک مضبوط گھوڑا اور سب سے آگے نکلنے والا بن جا وإِنْ لَعَنَك السفهاء مِن طلبِ الهُدى اور اگر سفیہ لوگ بوجہ طلب ہدایت تیرے پر لعنت کریں فَكُنُ في مَراضى الله باللعن راضيا سوخدا تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے لعنت پر راضی ہو جا ثم إذا كانت حقيقة الكسوف بالتعريف المعروف أنه هيئة | پھر جب کہ سورج گرہن کی حقیقت مشہور تعریف کی رو سے یہ ہوئی کہ وہ اس ہیئت حاصلہ کا نام ہے حاصلة من حول القمر بين الشمس والأرض في أواخر أيام الشهر، کہ جب سورج اور زمین میں چاند حائل ہو جائے اور یہ حائل ہو جانا مہینہ کے آخر ایام میں ہو پس کیونکر ممکن ہے کہ فكيف يمكن أن يتكلم أفصحُ العجم والعرب بلفظ يخالف محاوراتِ وہ جو عجم اور عرب کے تمام لوگوں سے زیادہ تر فصیح ہے اور وہ ایسا لفظ بولے جو محاورات قوم اور لغت اور ادب سے القوم واللغة والأدب؟ وكيف يجوز أن يتلفظ بلفظ وضع لمعنى عند بالکل مخالف ہو اور جائز ہے کہ ایسا لفظ بولا جائے جو اہل زبان کے نزدیک ایک خاص معنوں کے لئے أهل اللسان، ثم يصرفه عن ذلك المعنى من غير إقامة القرينة وتفصيل موضوع ہے پھر اس کو بغیر اقامت کسی قرینہ کے اس معنے سے پھیرا جائے کیونکہ کسی لفظ کا محاورہ البيان؟ فإن صرف اللفظ عن المحاورة ومعانيه المرادة عند أهل الفن | اور معنی مراد مستعملہ سے پھیرنا اہل فن اور اہل لغت کے نزدیک جائز نہیں مگر اس حالت میں وأهل اللغة لا يجوز لأحد إلا بإقامة قرينة موصلة إلى الجزم واليقين۔ وقد کہ کوئی قرینہ یقینی قائم کیا جاوے اور ہم ذکر کر چکے ذكرنا أن القرآن يصدق هذا البيان، ولو كان الخسوف والكسوف في أيام | ہیں کہ قرآن اس بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور اگر کسوف خسوف ایسے ایام میں ہوتا جو اس