نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 202

۲۰۲ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الثانية كما هو الظاهر عند زكى ذى عِرفان۔ وكذلك خُسِفَ القمر ورآه جیسا کہ ایک دانا صاحب معرفت کے نزدیک یہ بات ظاہر ہے اور اسی طرح چاند گرہن ہوا اور بہتوں نے اس كثير من أهل هذه البلدان۔ وحسبك ما رأيت، بل برؤيته صليت ملک کے لوگوں میں سے دیکھا اور جو تو نے آپ دیکھ لیا بلکہ دیکھ کر نماز بھی پڑھی وہ تیرے لئے کافی ہے وتبين الحق المنير، وتقطعت المعاذير، فلا تكن من المرتابين۔ اور حق کھل گیا اور تمام عذر ٹوٹ گئے ۔ پس اب تو تردد نہ کر ۔ أيَا مَنْ يَدَّعِي عَقَلًا وَفَهُما إِلَى مَا تُؤْثِرَنُ وَعْثًا وَوَهُمَا اے وہ آدمی جو عقل اور فہم کا دعویٰ کرتا ہے کب تک تو وہم اور پھسلنے کی جگہ کو اختیار کرے گا أَتَحْسَبُ نَارَ غَضْبَ اللهِ رِزْقًا أَتَجْعَلُ سَهُمَ قَهْرِ اللَّهِ سَهُما کیا تو خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ کو ایک رزق خیال کرتا ہے کیا تو خدا تعالیٰ کے قہر کے تیر کو ایک حصہ خیال کرتا ہے لا يُقال إن الخسوف في أول وقت ليلة رمضان ما ظهر إلا في یہ کہنا درست نہیں ہے کہ رمضان کی اول رات میں گرہن صرف پنجاب اور اس کے قرب و جوار البنجاب وما يليه من البلدان، وما رئى أثره في غير هذه الأماكن فما تم البرهان کے ملکوں میں ظاہر ہوا ہے اور اس کا نشان دوسرے ملکوں میں ظاہر نہیں ہوا پس دلیل ناقص رہی کیونکہ لأنا نقول إن المقصد أيضا محدود في هذه البلدان، فإنها هي المظهر ہم کہتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا مقصد بھی انہیں ملکوں میں محدود ہے اس لئے کہ یہی ملک ان هذا امر بدیهی البطلان واعجبنی شان تلك الرواة الم يكن لهم نظرا الى البديهيات الم يعلموه | یہ امر بدیہی البطلان ہے اور ان راویوں کے حال سے مجھے تعجب آتا ہے کیا بدیہیات کی طرف بھی انہیں نظر نہیں تھی کیا وہ ان كسوف الشمس لا يكون في الليل بل فى النهار واذا طلعت الشمس فاين الليل يا ذوى الابصار منه جانتے نہیں تھے کہ سورج گرہن رات کو نہیں ہوا کرتا بلکہ دن کو ہوتا ہے اور جب سورج چڑھا تو پھر رات کہاں ہے آنکھوں والو۔