نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 198

۱۹۸ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الثانية وبين ما روى الدارقطني إلا قليلا عند المتفكرين فإن عبارة الدار قطني اور دارقطنی کے بیان میں سوچنے والوں کی نگاہ میں کچھ زیادہ فرق نہیں کیونکہ دارقطنی کی عبارت ایک تدل بدلالة صريحة وقرينة واضحة صحيحة، على أن خسوف القمر لا صریح بیان اور قرینہ واضحہ صحیحہ کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چاند گرہن رمضان کی پہلی يكون في أول ليلة رمضان أصلاً، ولا سبيل إليه جزمًا وقطعًا، فإن عبارته تاریخ میں ہرگز نہیں ہو گا اور کوئی صورت نہیں کہ پہلی رات واقع ہو کیونکہ اس عبارت میں مقيدة بلفظ القمر، ولا يُطلق اسم القمر على هذا النَّيِّر إلا بعد ثلاث قمر کا لفظ موجود ہے اور اس نیر پر تین رات تک قمر کا لفظ بولا نہیں جاتا بلکہ تین رات کے بعد اخیر ليال إلى آخر الشهر، وسُمّى قمرًا فى تلك الأيام لبياضه التام، وقبل مہینہ تک قمر بولا جاتا ہے۔ اور قمر اس واسطے نام ، نام رکھا گیا کہ وہ خوب سفید ہوتا ہے اور تین رات سے پہلے الثلث هلال وليس فيه مقال، وهذا أمر اتفق عليه العرب كلُّهم وجُلُّهم ضرور ہلال کہلاتا ہے اور اس میں کسی کو کلام نہیں اور یہ وہ امر ہے جس پر تمام اہل عرب کا إلى هذا الزمان، وما خالفه أحد من أهل اللسان، ولا ينكره إلا مَن فُقدت | اس زمانہ تک اتفاق ہے اور کوئی اہل زبان میں سے اس کا مخالف نہیں اور نہ انکاری مگر وہ شخص جس کی بصيرته وماتت معرفته، ولا يخرج كلمة خلاف ذلك من فم إلا من فم بصیرت گم ہو گئی ہے اور معرفت مرگئی ہے اور ایسا کلمہ کسی مونہہ سے نہیں نکلے گا بجز اس کے جو نمی عمر جاهل، أو ذى غمر متجاهل، ولا تسمعها من أفواه العاقلين۔ جاہل ہو یا وہ جو کینہ ور اور دیدہ دانستہ اپنے تئیں جاہل بناتا ہو اور عقلمندوں کے مونہہ سے تو ایسا کلمہ نہیں سنے گا۔ قال صاحب تاج العروس يُسمّى القمر لليلتين من أوّل الشهر هَلالا وفي الصحاح | القمر بعد ثلاث الى اخر الشهر وقال بعضهم الهلال الى سبع وقال ابو اسحاق والذي عندى وما عليه الاكثر ان يُسمى هلالا ابن ليلتين فانه في الثالثة يتبين ضوء ٥ـ منه