نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 193

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۹۳ نور الحق الحصة الثانية القمر سارية ومثل عشيّة والشمس غادٍ مُدجِنٌ قَطْرَ النَّدَا رمضان کا چاند اس بادل کی طرح ہے جو سر شام آتا ہے اور نیز رات کے بادل کی طرح اور سورج اس بادل کی طرح ہے جو صبح آتا ہے اور محیط ہوتا ہے جو بخشش کا بادل ہے هذا من الله المهيمن آية ليبيد مَن تَرَكَ الهُدَى مُتعمدا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہے تاکہ اس کو ہلاک کرے جو عمداً ہدایت کو چھوڑتا ہے ۔ فاسعوا زُرَافَاتٍ وَوُحْدَانًا لَهُ مُتَنَدِّمين وبَادِرِينَ إِلَى الهدى پس ٹولے ٹولے اور اکیلے اکیلے اس کی طرف دوڑو اور چاہیے کہ تمہارا دوڑ نا شرمندگی کی حالت میں ہو اور ہدایت کی طرف جلدی قدم اٹھے ظهرت خطاياكم و حصحص صدقنا فابكوا كثكلى في الزوايا سُجَّدًا ﴿۶﴾ تمہاری خطا ظاہر ہو گئی اور ہمارا سچ کھل گیا پس اس عورت کی طرح جس کا لڑکا مر جاتا ہے گوشوں میں سجدہ کرتے ہوئے دونالہ کرو صارت ديار الهند أرض ظهورها ليُسَكِّتَ الرحمن غُولًا مُفْنِدا ہند کی زمین اس نشان کے ظاہر ہونے کا مقام قرار پائی تا کہ خدا تعالی دروغ گو کو ملزم کرے فأَذِيَّةُ الأوْهَامِ قُصَّ جناحها رُحما على قوم أطاعوا أحمـدا پس وہموں کی مکھیوں کے پر کاٹ دیئے اس قوم پر رحم کر کے جنہوں نے نبی صلعم کی فرمانبرداری اختیار کی فتجاف عن أيام فيج أعوج حجج خلونَ تغافلا وتمردا پس ٹیڑھے گروہ کے زمانہ سے الگ ہو وہ برس ایسے ہیں جو تغافل اور سرکشی میں گزر گئے كانت شَرِيعَتُنَا كَزَرْعٍ مُعْجِب فيها تعرثُ مِثلَ أَزْعَرَ أَرْبَدا ہماری شریعت ایک تعجب انگیز کھیتی تھی مگر ان برسوں میں ایسی برہنگی اس کی ظاہر ہوئی جیسے وہ جانور جس پر بال نہ ہوں اور خاکی رنگ ہو العَيْنُ باكية على أطلالها يا رب فاعْمُرُ خَرُبَها مُتَوَحِدًا آنکھ اس کی آثار عمارت پر رو رہی ہے اے میرے رب اب تو ہی اس کے ویرانہ کو پھر آباد کر وأما تفصيل الكلام في هذا المقامِ، فَاعْلَمُوا يَا أَهْلَ الإِسْلام اب ہم اس مقام میں اس کلام کی کچھ تفسیر کرنا چاہتے ہیں پس اے اہلِ اسلام وأتباع خير الأنام، أن الآية التي كنتم توعدون في كتاب الله العلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والو تمہیں معلوم ہو کہ وہ نشان جس کا قرآن کریم میں تم وعدہ دیے گئے تھے