نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 190

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۹۰ نور الحق الحصة الثانية وهذا عطاء من قدير مُكوّن وفضل من الله النصير المهون اور یہ اس قادر کی عطا ہے جو نیست سے ہست کرنے والا ہے اور یہ ا اللہ کا فضل ہے جو مددگار اور مشکلات کو آسان کرنے والا ہے ففاضت دموع العين منّى تأثرًا إذا ما رأيتُ حنان ربِّ محسن سو متاثر ہونے کی وجہ سے میرے آنسو جاری ہو گئے جبکہ میں نے خدائے محسن کی یہ بخشائش دیکھی قد انكسفت شمس الضحى لضيائنا ليظهر ضوء ذكائنا عند مُمعِن سورج ہماری روشنی کے لئے کسوف پذیر ہوا تاکہ ہمارے آفتاب کی روشنی ان لوگوں پر ظاہر ہو ترى أنوار الدين في ظلماتها ولماتها كأنها أرض مخزن تو اس کی تاریکی میں دین کے نور دیکھتا ہے اور ایسا ہی اس کے اس حادثہ میں جو اس پر پڑ رہا ہے اور وہ ایسا ویرانہ سا ہو گیا ہے جیسا کہ وہ ویرانہ زمین ہوتی ہے جس کے نیچے خزانہ ہو وليس كسوفًا ما ترى مثلَ عَندَمٍ بل احمر وجه الشمس غضبًا على الدني اور یہ کسوف نہیں جو دم الاخوین کی طرح تجھے نظر آتا ہے بلکہ ایک کمینہ پر غصہ کرنے کی وجہ سے سورج کا چہرہ سرخ ہو گیا وحمرتها غيظ ترى في خدها على جهلات القوم فانظُرُ وامعِن اور اس کی سرخی ایک غصہ ہے جو اس کے رخساروں میں نمودار ہے اور یہ غصہ قوم کی بیہودگیوں پر ہے پس دیکھ اور غور سے دیکھ ظَلامٌ مُنير يملا العين قرّةً ويسقى عطاش الحق كأس التيقن ایک روشن کرنے والا اندھیرا ہے جو آنکھ کوٹھنڈک کے ساتھ پُر کر دیتا ہے اور حق کے طالبوں کو یقین کے پیالے پلاتا ہے ولو قبل رؤيته أناب مخالفى لَهُدِى إلى الأسرار قبل التَّفَكَّنِ اور اگر اس سے پہلے میرا مخالف حق کی طرف رجوع کرتا تو شرمندہ ہونے سے پہلے حقانی بھیدوں کو پا لیتا ولكنه عادى وقفل قلبه فقلنا اهْلَكَنُ في جهلك المتمكن مگر اس نے حق سے مخالفت کی اور اپنے دل کو مقفل کر دیا سو ہم نے کہا کہ اپنے مستحکم جہل میں مر جا رأيت ذوى الآراء لا يُنكرونني وذي لـوثـة يـعــوى لوجع التسكن میں نے اہل الرائے لوگوں کو دیکھا کہ وہ تو میرا انکارنہیں کرتے اور ایک غیبی آدمی جو عقل کی دولت سے محروم ہے اس ناداری کے درد سے بھیڑیئے کی طرح آواز کر رہا ہے فإن كنت تبغى الله فاطلب رضاءه وإن كنت تبغى النَّحْرَ في الحج فَامْتَنِ سو اگر تو خدا تعالیٰ کی رضا چاہتا ہے تو اس کی رضا ڈھونڈ اور اگر تو حج میں قربانی کرنا چاہتا ہے تو منی میں جا