نورالحق حصہ اوّل — Page 67
روحانی خزائن جلد ۸ ۶۷ نور الحق الحصة الاولى بل وردت في كتاب الله تصریحات على خلافها كما سمعت آياتِ بلکہ کتاب اللہ میں اس کے برخلاف تصریحات واقع ہیں جیسا کہ تو نے آیتوں کو سن لیا۔ رب العالمين۔ وأما العقيدة المشهورة۔ أعنى قول بعض العلماء أن یعنی قول عقیده مشہورہ بعض علماء کا زیادہ بڑھا دیا المسيح الموعود ينزل من السماء ويقاتل الكفار ولا يقبل الجزية بل جو مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا اور کفار سے لڑے گا اور جزیہ قبول نہیں کرے گا إما القتل وإما الإسلام۔ فاعلموا أنها باطلة ومملوءة من أنواع الخطأ بلکہ دو باتوں میں سے ایک ہوگی یا قتل یا اسلام پس جاننا چاہیئے کہ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے اور طرح طرح والـزلـة ومــن أمــور تخالف نصوص القرآن، وما هي إلا تلبيسات کے خطاؤں اور لغزشوں سے بھرا ہوا ہے اور قرآن کی نصوص صریحہ سے مخالف پڑا ہوا ہے سو وہ صرف المفترين۔ يا حسرة عليهم إنهم أَطْرَأُوا عيسى مِن غير حق حتى قال مفتریوں کا افترا ہے ان پر افسوس کہ انہوں نے حضرت عیسی کو بعضهم إنه ملك كريم وليس من نوع الإنسان وقال بعضهم إن هو إلا یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ فرشتہ ہے انسان نہیں اور بعض نے کہا كلمة الله وروح الله، وليس فى هذه المرتبة شريكا له۔ وزاد بعضهم ایک کلمہ اور روح اللہ ہے اور اس صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور عليـه حـواشـي أخرى، وقـال هـو مخلوق أقرب إلى الله وأفضل من بعض نے اس پر اور حاشیئے چڑھائے اور کہا کہ وہ ایک الگ مخلوق ہے جو فرشتوں سے بڑھ کر الملائكة، فإن الملائكة لا يُرفعون إلى العرش وهو مرفوع على العرش ہے کیونکہ ملائک تو عرش پر جا نہیں سکتے مگر پر بیٹھا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ عرش لأنه مرفوع إلى الله، فهو أفضل من الملائكة كلهم ومن كل ما خُلِقَ کی طرف اُس کا رفع ہوا ہے اور خدا عرش پر ہے پس وہ ہر یک فرشتہ اور ہر یک مخلوقات سے افضل ہے وہ وہ وہ