نورالحق حصہ اوّل — Page 66
روحانی خزائن جلد ۸ ۶۶ نور الحق الحصة الاولى فليتدبر في هذا المقام كل عاقل حفظه الله تعالى عن الحمق پس اس مقام میں ہر ایک عاقل جس کو خدا نے حمق اور سفاہت اور بدوں کی خصلتوں سے نگاہ رکھا ہو وصانه عن السفاهة وسير اللئام - ليظهر عليه حقيقة جهاد الإسلام، فکر کرے اور سوچے تاکہ اس پر اسلامی جہاد کی حقیقت ظاہر ہو اور چاہے کہ دیکھے کہ اس جہاد میں ظلم ولينظُرُ أين أثر الظلم فى هذا الجهاد، وأين إيذاء المحسن ذى الإنعام؟ کا نشان کہاں ہے اور کہاں کسی محسن کو دکھ دیا گیا ہے بلکہ ان دنوں میں تو اسلام کا سر کچلنے کی جگہ میں بل كان رأس الإسلام في تلك الأيام معرضًا لدوس الأقدام، وقد پڑا ہوا تھا اور مسلمانوں پر ایسی مصیبتیں پڑی ہوئی تھیں کہ ان مصیبتوں کا قصہ آنکھوں وردت على المسلمين مصائب إلى حد يُجرى الدموع قصتها من آنسو جاری کر دیتا ہے اور دلوں کو درد کی آگ سے المقلتين وتشوى القلوب بنار الآلام فهل من مُنصف ينظرها ويخاف بریان کرتا ہے پس کوئی منصف ہے !!! جو خدا سے ڈرے اور سوچے یا که قهر الربّ العلام، أم انعدم الإنصاف من قلوب المخالفين؟ هذا هو انصاف مخالفوں کے دلوں اٹھ ہی گیا ہے اور یہی بات الحق ولا نـخـبء الحق ولا نستـره، والنفاق عندنا أكبر الذنوب، حق ہے اور ہم حق کو پوشیدہ نہیں کرتے اور نہ چھپاتے ہیں اور نفاق ہمارے نزدیک سب گناہوں سے بڑا ہے اور والرياء أخطر ،الخطوب، ومِن سِيرِ الظالمين المشركين۔ ریا سب کا موں سے زیادہ خطر ناک ہے اور ظالموں اور مشرکوں کی صفات میں سے ہے ۔ فخلاصة قولنا إن مسألة الغزوة والجهاد ليست محور الإسلام | پس ہمارے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ دینی لڑائی اور جہاد کا کچھ ایسا مسئلہ نہیں جس کو اسلام کا محور اور واستقسه كما فهمه الجاهلون المخالفون أو المتجاهلون من المسلمين استفس کہا جائے جیسا کہ جاہل مخالف سمجھتے ہیں یا جیسا کہ بناوٹ سے جاہل بننے والے بعض مسلمان خیال کرتے ہیں