نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 65

روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى عليه وسلم خيلهم ورَجِلَهم ، وضربوا خيامهم في ميادين بدر بفوج معہ اپنے سواروں اور پیادوں کے چڑھائی کی اور بدر کے میدان میں جو مدینہ سے قریب ہے اپنی فوج کے كثير قريبًا من المدينة، وأرادوا استيصال الدين۔ فاشتعل غضب خیمے کھڑے کر دیئے اور چاہا کہ دین کی بیخ کنی کر دیں تب خدا کا غضب ان پر الله عليهم ورأى قبح جفائهم وشدة اعتدائهم، فنزل الوحى على بھڑکا اور اس نے ان کے بڑے ظلم اور سختی کے ساتھ حد سے تجاوز کرنا مشاہدہ کیا سو اس نے اپنی وحی اپنے رسوله وقال أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۔ وَإِنَّ الله عَلى نَصْرِهِم رسول پر اتاری اور کہا کہ مسلمانوں کو خدا نے دیکھا جو ناحق ان کے قتل کے لئے ارادہ کیا گیا ہے اور وہ مظلوم ہیں لقَدِير فأمر الله رسوله المظلوم في هذه الآية ليحارب الذين هم | اس لئے انہیں مقابلہ کی اجازت ہے اور خدا قادر ہے جو ان کی مدد کرے سوخدا تعالیٰ نے اپنے رسول مظلوم کو اس آیت بدأوا أول مرة بعد أن رأى شدة اعتدائهم وكمال حقدهم میں ان لوگوں کے مقابل پر ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی جن کی طرف سے ابتدا تھی مگر اس وقت اجازت دی وضلالهم، ورأى أنهم قوم لا يرجى بالمواعظ صلاح أحوالهم۔ جبکہ انتہا درجہ کی زیادتی اور گمراہی ان کی طرف سے دیکھ لی اور یہ دیکھ لیا کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ بجر دنصیحتوں سے فانظر كيف كان حرب رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ وما (۳۸) ان کی اصلاح غیر ممکن ہے پس اب سوچو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں کی کیا حقیقت تھی اور حارب نبي الله أعداء الدين إلا بعد ما رآهم سابقين في الترامى نبی اللہ دشمنان دین سے ہرگز نہیں لڑا مگر جب تک کہ اس نے یہ نہ دیکھ لیا کہ وہ تیر چلانے اور تلوار مارنے میں بالسهام والتجالد بالحُسام وما كان الكفار مقتولين فقط بل كان پیش دست اور سبقت کرنے والے ہیں اور نیز یہ تو نہیں تھا کہ صرف کفار ہی مارے جاتے تھے بلکہ جانبین سے يسقط من الجانبين قتلى، وكان الكفار ظالمين ضالين مرنے والے کام آتے تھے اور کفار ظالم اور حملہ آور تھے ۔ الحج:۴۰ ☆ سهو، والصحيح ”صائلين كما تدل عليه الترجمة ۔ (الناشر)