نورالحق حصہ اوّل — Page 10
نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ في هذه الصفة حتى خاتم النبيين وقالوا إنه كان خالق الطيور | نہ سکا مگر ایک مسیح اور اس صفت میں نبیوں میں سے اس کا کوئی بھی شریک نہیں یہاں تک کہ خاتم الانبیاء بھی ۔ اور خدا تعالیٰ كخلق الله تعالى، وجعله الله شريكه بإذنه، والطيور التي توجد في کی طرح وہ پرندوں کا بھی خالق تھا اور خدا تعالیٰ نے اپنے اذن سے اس کو اپنا شریک بنایا۔ سو وہ سب پرندے جو هذا العالم تنحصر في القسمين خَلْق الله وخَلْق المسيح۔ فانظر دنیا میں پائے جاتے ہیں دو قسم کے ہیں کچھ خدا کی پیدائش اور کچھ مسیح کی سو دیکھو کیوں کر كيف جعلوا ابن مريم من الخالقين۔ ويُشيعون في الناس هذه ابن مریم کو خالق بنا دیا۔ اور لوگوں میں عقائد شائع کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ العقائد ولا يدرون ما فيها من البلايا والمنايا، ويؤيدون المتنصرين۔ ان عقیدوں میں کیا کیا بلائیں اور موتیں ہیں اور نصاری کو مدد پہنچا رہے ہیں ۔ اور ان عقائد کی شامت سے اب تک وهلك بها إلى الآن ألوف من الناس ودخلوا في الملة النصرانية | ہزاروں انسان ہلاک ہو چکے اور نصرانی مذہب میں داخل ہوگئے بعد اس کے جو وہ مسلمان تھے۔ بعدما كانوا مسلمين۔ وما كان في القرآن ذكرُ خَلقه على الوجه | اور قرآن میں مسیح کے پرندے بنانے کا ذکر حقیقی طور پر کہیں بھی نہیں اور خدا نے اس الحقيقي، وما قال الله تعالى عند ذكر هذه القصة فيصير حيًّا بإذن الله قصہ کے ذکر کرنے کے وقت یہ نہیں فرمایا کہ فیصير حيا باذن الله بلکہ یہ فرمایا که فيكون طيرا باذن الله بل قال فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ ، فانظروا لفظ ”فيَكُونُ" ولفظ ”طَيْرًا، سو لفظ وو کون اور لفظ طیـــــــرا میں غور کرو کہ کیوں اس علیم حکیم نے انہیں لم اختارهما العليم الحكيم وترك لفظ "يصير“ و ”حيا؟ فثبت من ههنا دونوں لفظوں کو اختیار کیا اور لفظ فيصير حیا کو چھوڑ دیا سواس جگہ ثابت ہوا کہ اس جگہ خدا تعالیٰ عزوجل أن الله ما أراد ههنا خلقًا حقيقيا كخلقه عزّوجل۔ و يؤيده ما جاء في كتب کی مراد حقیقی خلق نہیں ہے اور وہ خالقیت مراد نہیں ہے جو اس کی ذات سے مخصوص ہے اور اس کی تائید وہ بیانات ال عمران: ۵۰