نورالحق حصہ اوّل — Page 4
نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ ومَن مُلئ قلبه إيمانا ومعرفة، فهو ليس عندهم إلا كافر دجّال۔ فانظروا اور جو شخص درحقیقت ایمان اور معرفت سے بھر گیا وہ ان کے نزدیک ایک کافر دجال ہے۔ سو دیکھو كيف عُميتُ عليهم الحقائق، وكذلك يجعل الله مآل الزائغين کیسے حقیقتیں ان پر چھپ گئیں اور خدا ایسا ہی ان لوگوں کا انجام کرتا ہے جو ٹیڑ ھے چلتے اور حد سے گذرتے ہیں۔ المعتدين۔ وقد رأيتم أننا كيف أوذيـنـا من لستهم إنهم كذبونا، اور آپ لوگوں نے دیکھا کہ ہم کیسے ان لوگوں کی زبانوں سے ستائے گئے انہوں نے ہمیں جھٹلایا گالیاں نکالیں لعنتیں کیں شتمونا، لعنونا، وما كان لهم علينا ذنب وما كنا مجرمين۔ ثم ما اور ہم نے کوئی ان کا گناہ نہیں کیا تھا اور نہ کوئی جرم سرزد ہوا تھا۔ پھر انہوں نے اسی پر قناعت نہ کی ۔ (۳) اقتصروا عليه بل جاء وا يُهرعون إلينا ،مشتعلين، وسمونا كافرين۔ وما بلکہ اشتعال طبع سے ہماری طرف دوڑے اور ہمارا : ، اور ہمارا نام کافر رکھا اور انہیں نہیں چاہیے تھا کہ بے ڈر ہو کر كان لهم أن يتكلموا في مُسلمين إلا خائفين۔ ولكنهم لا يبالون نَهى مسلمانوں کے حق میں ایسے کلمات منہ پر لاتے مگر وہ لوگ خدا تعالیٰ کی ممانعت کی کچھ پرواہ نہیں کرتے بلکہ ذي الجلال بل لهم أعمال دون ذلك يقولون للمسلم لست مؤمنا، وہ تو اور ہی کاموں میں لگے ہوئے ہیں مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ تو مومن نہیں اور جانتے ہیں کہ ایسا کہنے سے ويعلمون أنهم تركوا القرآن بقولهم هذا واتخذوه مهجورا، فبعدوا عن الحق وہ قرآن کو چھوڑتے ہیں اور قرآن کو تو وہ چھوڑ ہی بیٹھے ہیں سو اسی وجہ سے وہ سچائی سے دور جا پڑے اور ان کے دل فقست قلوبهم يفعلون ما يشاء ون، ولا يتقون افتراء ولا زورا، وكذلك سخت ہو گئے۔ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں نہ افتر اسے کچھ پر ہیز اور نہ جھوٹ سے کچھ خوف اور اسی طرح انہوں نے ہم پر افتروا علينا وحثوا ناسًا كثيرا من ذوى سفه على إيذاءنا، وكفّرونا من غير افترا کیا اور بہت سے نادان لوگوں کو ہمارے ستانے کے لئے اٹھایا اور ہمیں کافر ٹھہرایا حالانکہ کوئی علم ولا برهان مبين وأمهم فى هذه الفتاوى شيخ عارى الجلدة من بھی وجہ کفر نہیں تھی اور ان فتووں میں پیشوا ان کا ایک شیخ ہے جو انسانیت کے پیرایہ سے بے بہرہ