نورالحق حصہ اوّل — Page 5
نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ الحلل الإنسانية والديانة الإيمانية، وتبعوه أمثاله جهلا وحمقا، وما | اور برہنہ اور ایمانی دیانت سے عاری ہے اور اس کے پیرو اسی کی مانند ہیں جو محض جہل اور حمق كنا كمجهول لا يُعرف، بل كانوا على إسلامنا مطلعين۔ وما صرنا سے اس کے پیچھے ہو لئے اور ہم ایسے نہیں تھے جو ہمارا حال ان سے پوشیدہ ہو بلکہ ہمارے اسلام پر وہ مطلع تھے اور بتكـفـيـرهـم كـافـريـن عند الله، ولكن سُبِرَ إيمانهم وتقواهم ومبلغ ان کے کہنے سے ہم خدا کے نزدیک کافر نہیں ہو گئے مگر ان کا ایمان اور ان کا تقویٰ اور ان کا اندازہ فهمهم وعلمهم، وتبيّن ما كانوا يسترون، وبان أنهم كانوا حاسدين۔ فہم اور علم سے آزمایا گیا اور جو کچھ وہ چھپاتے تھے وہ سب ظاہر ہوگیا اور کھل گیا کہ وہ حاسد ہیں۔ يا حسرة عليهم ما عطف إلينا أحد منهم ليسأل ما أشكل عليه حلمًا پر افسوس کہ ان میں سے ایک بھی ہماری طرف متوجہ نہ ہوا تا اپنی مشکلات کی نسبت حلم ورفقا، وما سمعنا صَكَة مستفتح من المسترشدين۔ وما جاء نا أحد اور رفق سے سوال کرتا اور ہم نے کسی کھٹکھٹانے والے کا کھٹکا نہ سنا جو رشد حاصل کرنے کا طالب ہو اور کوئی منهم بصدق القلب وصحة النيّة، بل بادروا إلى التكفير وكفّروا قبل ان میں سے ہمارے پاس صدق قلب اور صحت نیت سے نہ آیا بلکہ جھٹ پٹ تکفیر کی طرف دوڑے اور أن يثبت كفرنا۔ ثم ما اقتصروا عليه بل قالوا إن هؤلاء مرتدون قبل اس کے جو ہمارا کفر ثابت ہو کافر ٹھہرایا اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ یہ لوگ مرند خارجون من الدين، وفى قتلهم أجر عظيم، ونهب أموالهم حلال (٢) اور دین سے خارج ہیں اور ان کا قتل کرنا بڑے ثواب کی بات ہے اور ان کا مال لوٹنا اگر چہ چوری سے ہی طيب ولو بالسرقة، وأخذ نسائهم وسبى ذراريهم عمل صالح حسن کیوں نہ ہو حلال طیب ہے اور ان کی عورتوں کو پکڑ لینا اور ان کی اولاد کو غلام بنا لینا عمل صالح میں داخل ہے ومن انســل بـسُـحـرة وسقط على أحد من مسافريهم كاللصوص فهو اور جو شخص فجر کو پہلے وقت اٹھے اور جنگل میں نکل جائے اور ان کے مسافروں میں سے کسی پر چوروں کی طرح ڈا کہ مارے