نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 170

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۷۰ نور الحق الحصة الاولى فلا يحسبه شيطانا إلا الذي هو شيطان لعين۔ پس اس کو شیطان وہی سمجھے گا جو خو د شیطان ہے ۔ ومن اعتراضات هذا العاصى الغافل عن يوم يؤخذ المجرمون | اور منجملہ اعتراضات اس سرکش کے جو قیامت کے دن سے غافل ہے ایک یہ ہے کہ وہ گمان ۱۲۹ بالـنـواصـى، أنه يظنّ كأنّ القرآن أخطأ في بيان مذهب النصارى | کرتا ہے کہ گویا قرآن کریم نے مذہب نصاری کے بیان کرنے اور انکے عقیدوں کی تفسیر میں غلطی کی ہے وعقائدهم، وما فهم مقصد عمائدهم، وعزا إليهم ما يخالف عقيدة اور گویا قرآن شریف نے نصاریٰ کے عمائد کے مطلب کو نہیں سمجھا اور ان کی طرف وہ امر منسوب کیا جو ان کے عقائد کے المسيحيين۔ فاعلم أنّ بيانه هذا بهتان عظيم وكذب مبين، والحق أن مخالف ہے۔ پس جاننا چاہیے کہ یہ بیان اس کا سراسر بہتان اور صریح جھوٹ ہے اور القرآن لما جاء كانت النصارى فرقا متفرقين، فبعضهم كانوا يعبدون حق یہ ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہوا تو نصاری کئی فرقے تھے اور بعض حضرت مسیح المسيح، وبـعـضـهـم مـعـه أُمَّـه، وبعضهم كانوا يسجدون لتصاويرهما اور ان کی والدہ کی پرستش کرتے تھے اور بعض ان کی تصویروں کے بھی پجاری تھے اور ان کی ایسی پرستش کرتے تھے ويعبدونهما كعبادة رب العالمين۔ وكان اللجاج بينهم قد احتدّ والحِجاج جیسی خدا تعالیٰ کی کرنی چاہیے اور ان میں باہم لڑائیاں اور جھگڑے بہت تیز ہوئے ہی تھے اور وہ سب کے سب قد اشتد، وكان كلّهم قومًا ضالّين، إلا قليلا منهم كانوا موحدين مع گمراہ تھے ۔ مگر تھوڑے ان میں سے موحد بھی تھے مگر انہوں نے اور اور بدعات ساتھ ملا رکھی تھیں اور اندھوں کی بدعات أخرى وكانوا كالعمين۔ فبين القرآن ما رأى وبَكَّتَهم وسَكَّتَهم طرح تھے سو قرآن نے جو دیکھا بیان کر دیا اور ظاہر ظاہر بیان سے ان کو ملزم اور لاجواب کیا اور اپنے لفظوں بيان أجـلــى، وقال أنتم تعبدون إنسانا من دون الله الأغنى، وما تعبدون میں فرمایا کہ تم لوگ خدا تعالی کے سوا انسان کی پرستش کرتے ہو اور اپنے رب اعلیٰ کی تم پرستش نہیں کرتے