نورالحق حصہ اوّل — Page 169
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۶۹ نور الحق الحصة الأولى ولا ينكرها إلا الذي مثلك غبی و شقی کعمين۔ داخل کیا ہے اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا بجز اس شخص کے جو تیرے جیسا نبی اور شقی اور اندھوں کی طرح ہو۔ هذا ما أوردنا لإلزامك وإفحامك من نظائر المتقدمين نظائر شعراء متقدمین ہیں جن وہ یہ سے تیرا الزام اور انجام مقصود ہے و كلام المشهورين المقبولين۔ وأما ما يظهر من سياق كلام الله وسباقه اور اس کے مگر وہ امر جو کلام الہی کے سیاق سباق و من عقد در حقاقه، فهو طريق أقرب من ذلك للمسترشدين۔ فإنه موتیوں کی لڑیوں کے حقہ سے معلوم ہوتا ہے تو وہ طریق ہدایت طلبوں کے لئے بہت قریب ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانه تعالى كما وصف روح القدس بقوله ذُومِرَّةٍ، كذلك وصفه في نے جیسا کہ روح القدس کو ذی مرہ کے ساتھ موصوف کیا ہے اسی طرح دوسرے مقام میں ذی قوۃ کے ساتھ منسوب مقام آخر بذى قوة فقال ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينِ فقوله في مقام ذُو کیا ہے اور کہا ہے کہ ذو قوة عند ذی العرش مکین۔ پس خدا تعالیٰ کا ایک مقام میں جبرئیل کو ذو مرہ کہنا اور دوسرے مِرَّةٍ وفى مقام ذُوقُوَّة شرح لطيف بأفانين البيان، وكذلك جرت سُنّة مقام میں ذومرہ کی جگہ ذو قوة کہہ دینا یہ ذومرہ کے معنے کی ایک شرح لطیف ہے جو تبدیل بیان سے کی گئی ہے اور الله في القرآن، فإنه يفسر بعض مقاماته ببعض آخر ليزيد الاطمئنان، اسی طرح قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کی یہی سنت جاری ہے کہ بعض مقامات قرآن اس کے بعض آخر کے لئے بطور وليعصم كتابه من تحريف الخائنين۔ تفسیر ہیں تا کہ خدا تعالیٰ اپنی کتاب کو خیانت کرنے والوں کی تحریف سے بچاوے۔ ولقد ذكر الله تعالى في كتابه المحكم وسفره المكرم صفات اور خدا تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب اور بزرگ صحیفوں میں روح القدس کے اور صفات بھی أخرى للروح الأمين، وبيّن عبارته وصدقه وأمانته وقربه من رب العالمين بیان کئے ہیں اور اس کی پاکیزگی اور اس کی سچائی اور اس کی امانت اور اس کے قرب کا ذکر کیا ہے النجم: التكوير : ٢١