نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 168

۱۶۸ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ تصحيح النقل، فاعلم أنّ صاحب تاج العروس شارح القاموس فسّر لفظ لفظ پس جاننا چاہیئے کہ صاحب تاج العروس نے جو شارح قاموس ہے ذى مرة بمعنى ذى الدهاء ، وقال يُقال إِنه لَذُو مِرَّة أَى عقلٍ فِي مَثَلِ ذی مرہ کو بمعنے ذی عقل تفسیر کیا ہے اور تمثیل کے طور پر کہا ہے کہ عرب کے لوگ کہتے ہیں کہ انه لذو مرة اور العرب العرباء وإن لم يكفك هذا المثل مع أنه هو الأصل، وتطلب منا مراد اس سے انه لذو عقل رکھتے ہیں اور اگر تیرے لئے یہ مثال کافی نہ ہو حالانکہ وہ کافی ہے اور تو نظیرا آخر من الأيام الجاهلية والأزمنة الماضية، فاقرأ هذا البيت من ایام جاہلیت کا کوئی شعر اس کی تائید میں طلب کرے تو یہ بیت غور سے پڑھ صاحب القصيدة الرابعة من السبع المعلّقة، وكان من نبغاء الزمان وفى جو سبعہ معلقہ میں سے چوتھے قصیدہ کا شعر ہے جس کا مؤلف ادباء زمان البلاغة إمام الأقران، وزاد عمره على مئة وخمسين، وهو هذا اور فصحاء اقران میں سے تھا اور ڈیڑھ سو برس کی عمر تک پہنچا تھا ۔ رجعا بأمرهما إلى ذى مِرَّةٍ حَصِدٍ وَنُجُحُ صَرِيمةٍ إِبْرَامُها رَجَعَا وہ دونوں ذی مرہ کی طرف یعنی ذی عقل کی طرف متوجہ ہوئے اور قصد کو پختہ کرنے سے مقاصد حاصل ہو جایا کرتے واعلم أن هذه القصائد معروفة بغاية الاشتهار كالشمس في نصف النهار، ہیں اور جاننا چاہیے کہ یہ قصائد غایت درجہ پر مشہور ہیں جیسے سورج دوپہر کے وقت وقد أجمع كافة الأدباء وجهابذ الشعراء على فضلها وكمال براعتها، اور تمام جماعت فصیح شعراء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ اشعار فصاحت اور بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر ہیں اور واتفق عامة البلغاء على حسنها ونباهتها، واختارها الحكومة الإنكليزية | اس کے حسن اور خوبی پر شعراء کا اتفاق ہے اور گورنمنٹ انگریزی نے اس کتاب کو اپنے مدارس تعلیمیہ میں (۱۳۸) لطلباء مدارسها و سبقاء كوالجها وشرباء كيالجها لتكميل القارئين کالجوں کے پڑھنے والوں اور علوم ادبیہ کے پیالے پینے والوں کے لئے ان کی تعمیل تعلیم کی غرض سے