نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 151

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۵۱ نور الحق الحصة الأولى دے أو بيتين؟ فَإِن ادعيتَ فَأْتِ ببرهان مبين۔ وأنت تعلم أني خاطبتك في پس اگر تو دعوی کرے تو اس بات کا ثبوت پیش کر۔ اور تجھے معلوم ہے کہ میں نے براہین میں بھی البراهين إذ صُلت على القرآن والدين المتين، وما كان خطابي إلا لأُبْدِيَ تجھے مخاطب کیا تھا جبکہ تو نے قرآن شریف پر اور دین اسلام پر حملہ کیا تھا اور میرا مخاطب کرنا صرف على الناس جهلك الشديد، وذهنك البليد، فقلت إن كنت تزعم أنك ) اسی وجہ سے تھا کہ تا تیرا گند ذہن اور سخت جاہل ہونا لوگوں پر ظاہر کروں پس میں نے کہا کہ اگر تعلم العربية فأرنا مهارتك الأدبية، ونحن نقص عليك قصةً في لسان تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو عربی جانتا ہے سو ہمیں اپنی مہارت ادبیہ دکھلاؤ اور ہم ایک قصہ کسی زبان میں تجھ کو فترجمه في العربية بأحسن بيان إن كنت فيها من الماهرين۔ وإن ترجمت سنائیں گے اور تجھ پر واجب ہو گا کہ تو اس کی عبارت کو عربی بنا کر دکھلا فلك خمسون روبية إنعامًا، ثم نقرّ بفضلك ونكرمك إكرامًا، پھر ہم تمہاری بزرگی کے اقراری جائیں گے اور تیری تعظیم کریں گے ونحسبك من الفضلاء المسلمين المرتدين ولكنك سكت كالأنعام اور تجھ کو متبحر فاضلوں میں سے تسلیم کریں گے مگر تو چارپایوں کی طرح چپ ہو گیا وما ملت إلى الإنعام، وما نبست بكلمة الخير والشر خوفًا من هتك اور انعام لینے کی طرف رخ نہ کیا اور تو جواب میں چپ ہی کر گیا نہ کچھ نیک کہا نہ بد کیونکہ اس میں الستر وفضوح الحصر، فثبت أنك غبي قصير الرسن، وما أصابك تیری پردہ دری اور رسوائی تھی پس ثابت ہوا کہ تو ایک نبی کم استعداد آدمی ہے اور تجھ کو عربی زبان سے حظ من اللسن، وما حرصت في الإنعام لأنك كنت جاهلا كالأنعام کچھ بھی حصہ نہیں اور تو نے انعام لینے کی طرف رغبت نہ کی کیونکہ تو ایک جاہل چارپایوں کی طرح تھا وما كان لك حظ من العربية بل ما كنت من الماسين۔ فعلمت نہیں تھا۔ پس میں نے قطعی علم اور عالموں میں سے ہو ترجمہ سے ظاہر ہے کہ اصل لفظ المتبحرین “ تھا۔ شمس ☆