نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 150

نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ النظم والنثر من غير مخافة اللوم مختارين غير مضطرين۔ فلما كان مدار استعمال اپنی نظم اور نثر میں جائز رکھے ہوں اور کسی ملامت سے نہ ڈرے ہوں اور نہ کسی اضطرار سے وہ الفاظ استعمال کیے البلاغة على هذه القاعدة فهذا هو معيار الكلمات الصاعدة في سماء البلاغة | ہوں پس جبکہ بلاغت کا مدار اسی قاعدہ پر ہوا پس یہی قاعدہ ان عبارات بلیغہ کے لئے معیار ہے جو فصاحت کے آسمان پر الراعدة، فلا حرج أن يكون لفظ من غير اللسان مقبولًا في أهل البيان، بل چڑھے ہوئے اور بلندی میں گرج رہے ہیں پس اس بات میں کچھ بھی حرج نہیں کہ ایک غیر زبان کا لفظ ہو مگر بلغاء نے اس ربما يزيد البلاغة من هذا النهج في بعض الأوقات، بل يستملحونه في بعض کو قبول کر لیا ہو بلکہ اس طریق سے تو بسا اوقات بلاغت بڑھ جاتی ہے اور کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے بلکہ بعض مقامات المقامات، ويتلذذون به أهل الأفانين۔ ولكنك رجلٌ غَمُرٌ جَهولٌ، ومع میں اس طرز کو فصیح اور بلیغ لوگ ملح اور نمکین سمجھتے ہیں اور تفنن عبارات کے عشاق اس سے لذت اٹھاتے ہیں مگر تو تو اے ذلك معاند وعجولٌ، فلأجل ذلك ما تعلم شيئا غير حقدک و جهلک معترض ایک غیبی اور جاہل ہے اور باوجود اس کے تو جلد باز اور دشمن حق ہے اس لئے تو بغیر کینہ اور جہل کے اور کچھ نہیں جانتا وما تضع قدمًا إلا فى دَحْلِك، ولا تدرى ما لسان العرب وما الفصاحة، ولا اور بغیر گڑھے کے اور کسی جگہ قدم نہیں رکھتا اور تو نہیں جانتا کہ زبان عرب کیا شے ہے اور فصاحت کسے کہتے ہیں اور صرف تصدر منك إلا الوقاحة، وما لقنتَ إلا سب المطهرين۔ بے حیائی تجھ میں ہے نہ اور کوئی لیاقت اور تجھ کو تو کسی نے سکھایا ہے کہ ٹو پاکوں کو گالیاں دیتار ہے۔ فاترك أيها الغافل سيرة الأشرار، واستح وانظر وجهك في سواے غافل شریروں کی خصلت چھوڑ دے اور کچھ شرم کر اور ذرا اپنے منہ کو فکر کے شیشہ میں مرآة الأفكار۔ هل قرأتَ شيئا في مدة عمرك من فن الأدب، أو عرفت دیکھ کہ کیا تو نے مدت عمر میں کبھی فن ادب سے کچھ پڑھا ہے یا رنگینی عبارات کے في طرقه أفانين الوهد والحدب، أو ألفتَ قطُّ بين كلمتين، ونظمت بيتًا نشیب و فراز تجھے معلوم ہیں یا کبھی تو نے دو عربی کلموں کو جوڑا یا ایک دو بیت بنائے