نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 149

۱۴۹ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ وما فـاهـوا بـكـلام في جرح بيانه، ونسوا جمال الفكر في ميدانه، ثم رجعوا میں وہ کوئی کلمہ منہ پر نہ لائے اور اس کی جرح میں انہوں نے کوئی بات منہ سے نہ نکالی اور اس کے میدان میں انہوں نے مرعوبين نادمين، وأكثرهم كانوا يبكون عند سماعه ويسجدون باكين۔ فکر کے اونٹ دوڑائے تو سہی مگر خوفناک اور شرمندہ ہو کر رجوع کیا اور اکثر ان کے قرآن کوسن کر روتے اور سجدہ کرتے تھے۔ هذا ما نجد في القرآن الكريم وأحاديث النبي الرؤوف یہ وہ بیان ہے جو ہم قرآن کریم میں پاتے اور نبی رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں پڑھتے ہیں الرحيم، إيمانًا وديانةً وصدقا وأمانةً ، وما نجد كلمةً خلاف ذلك من اور ہم نے اس کو ایمانا اور دیانت اور امانتا لکھا ہے اور ہم اس کے برخلاف کوئی ایسا قول بھی نہیں پاتے جو اس وقت کے نصاری أسلاف النصارى أو المشركين، وكانوا خيرا منكم في تنقيد الكلمات | اور مشرکوں کے منہ سے قرآن کی شان کے برخلاف نکلا ہو اور اے نادانو وہ نصاری قرآن کی پر کھ میں تم سے بہتر تھے۔ يا معشر الجاهلين۔ وأما ما ظننت أن فى القرآن بعض ألفاظ غير لسان اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ قرآن میں بعض ایسے الفاظ ہیں کہ وہ زبان قریش کے مخالف ہیں سو قریش، فقد قلت هذا اللفظ من جهل وطيش، وما كنت من یہ بات تیری سراسر جہل اور نفسانی جوش سے ہے اور بصیرت کی راہ نہیں۔ المتبصرين۔ اعلم أيها الغبى والجهول الدني، أن مدار الفصاحة على اے نجمی اور سفلہ نادان تجھے معلوم ہو کہ فصاحت کا مدار الفاظ مقبولہ ہوا کرتا ہے ألفاظ مقبولة سواء كانت من لسان القوم أو من كلم منقولة مستعملة خواہ وہ کلمات قوم کی اصل زبان میں سے ہوں یا ایسے کلمات منقولہ ہوں جو بلغاء قوم کے استعمال میں ' في بلغاء القوم غير مجهولة، وسواء كانت من لغة قوم واحد ومن محاوراتهم آ گئے ہوں اور خواہ وہ ایک ہی قوم کی لغت میں سے ہوں اور ان کے دائی محاورات عـلـى الـدوم، أو خـالـطـهـا ألفاظ استحلاها بلغاء القوم، واستعملوها (١٣) میں سے ہوں یا ایسے الفاظ اُن میں مل گئے ہوں جو قوم کے بلغاء کو شیریں معلوم ہوئے اور انہوں نے ان کے