نورالحق حصہ اوّل — Page 137
۱۳۷ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى عمين ۔ ثم إذا دققت النظر او أمعنت فيما حضر فيظهر عليك أن قوله پھر اگر تو غور سے دیکھے اور واقعات موجودہ میں غور کرے تو تیرے پر ظاہر ہوگا کہ اللہ جل شانہ کا یہ قول کہ تعالى روح منه يشابه قوله تعالى جميعًا منه، فمن الغباوة أن تُثبت من روح منه ہ ایسا ہی قول ہے جیسا کہ اس کا دوسرا قول سو بڑی نادانی کی بات ہے کہ روح مـ لفظ رُوحٌ مِنْهُ ألوهية عيسى، ولا تُقِرّ من لفظ جميعًا منه بألوهية أرواح کے لفظ سے حضرت عیسی کی خدائی تو ثابت کرے اور جمیعاً من ہ کے لفظ سے الكلاب والقردة والخنازير وأشياء أخرى، فإن منطوق الآية يشهد کتوں اور بلیوں اور سؤروں اور دوسری تمام چیزوں کی خدائی کا اقرار نہ کرے کیونکہ منطوق آیت کا على أنها جميعا منه، فمُتُ من الندامة إن كنت من المستحيين دلالت کر رہا ہے کہ ہر یک چیز جمیعا منہ میں داخل ہے یعنی تمام ارواح وغیرہ خدا سے ہی نکلے ہیں پس اب ندامت وتفكروا يا معشر النصارى أليس فيكم رجل من المتفكرين؟ وليس سے مرجا اگر کچھ شرم ہے اور اسے نصرانی لوگو! اس میں غور کرو کیا تم میں کوئی بھی غور کرنے والا نہیں ہے اور کبھی ممکن نہیں لك أن ترفع في جوابنا الصوت وأن تلاقى من فكرك الموت، فإن (۱۰۳) جو تو ہمارا جواب دے سکے اگر چہ اسی فکر میں مر جائے کیونکہ جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح مثل الكاذب كخُذُروفٍ مُدَحُرَج ولا قرار له عند الصادقين۔ گردش میں ہوتا ہے اور بچوں کے سامنے اس کو قرار نہیں ۔ و من اعتراضات هذا الخائن الضنين أنه ذكر في توزينه الذي اور اس بخیل خیانت پیشہ کے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے جو وہ اپنی کتاب هو عش الشياطين، أن وحى القرآن كان من الشيطان، وما كان من تو زین میں جو شیاطین کا آشیانہ ہے یہ لکھتا ہے کہ وحی قرآن شیطان کی طرف سے تھی اور الروح الأمين، وأوَّلَ لفظ شَديدُ القُوَى ولفظ ذُو مِرَّة بالخُبث روح الامین کی طرف سے نہیں تھی اور اور شدید القوی اور ذو مرة کے لفظ کی اس نے