نورالحق حصہ اوّل — Page 135
روحانی خزائن جلد ۸ الله نور الحق الحصة الأولى ومسرة قلوبكم في الأكاذيب، وطبتم نفسًا بإلغاء طلب الحق وإلقاء آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی ہے اور تم اس بات پر خوش ہو گئے کہ حق کو چھوڑ دو اور حبل الله القريب، وكنتم قوما عادين؟ ويل لكم۔ إنكم سقطم على خدا کے رسہ کو جو بہت نزدیک ہے پھینک دو۔ تم پر افسوس کہ تم ایک مزبلہ پر گرے دمنة، وأعرضتم عن روضة، بل تركتم شجراء وآثرتم مرداء، ونزلتم اور باغ سے کنارہ کیا بلکہ تم نے درختوں والی زمین کو چھوڑا اور ویران بے درخت زمین کو عن متن الركوبة، واخترتم طريق الصعوبة، وقفوتم أثر المبطلين۔ اختیار کیا اور سواری سے تم اتر بیٹھے اور خرابی اور سختی کا راہ اختیار کر لیا اور باطل پرستوں کے پیچھے لگ گئے ۔ وإن كنتم تظنون أن القرآن صدّق قولكم وأعان، وقال في شأن اور اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ قرآن تمہارے قول کی تصدیق کرتا اور تمہیں مدد دیتا ہے اور عیسی کے بارہ میں کہا ہے کہ عيسى وروح منه وقبل أنه خرج من لدنه، فما هذا إلا جهل صريح وہ اس سے روح ہے اور اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ وہ اس سے نکلا ہے تو یہ خیال تمہارا صریح جہل اور مکر وہ وہم ہے اور ووهم قبيح وخطأ مبين۔ ثم إن فُرِضَ أن قوله تعالى وروح منه يزيد شأن کھلا کھلا خطا ہے۔ پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ روح منہ کا لفظ حضرت عیسی کی شان بڑھاتا ہے اور اس کو ابن مريم، ويجعله ابن الله وأعلى وأكرم، فيجب أن يكون مقام آدم ابن اللہ اور بلند تر ٹھہراتا ہے سو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت آدم کا مقام حضرت مسیح أرفع منه وأعظم، ويكون آدم أول أبناء ربّ العالمين؛ فإن في شأن آدم سے زیادہ بلند ہو اور پہلا بیٹا خدا تعالیٰ کا حضرت آدم ہی ہو۔ کیونکہ حضرت آدم کی شان میں بيان أكبر من شأن عيسى، فتفكر في في آية فَقَعُوا لَهُ ۔ والَهُ سَجِدِينَ ، وتدبَّرُ ہے۔ L حضرت عیسی کی نسبت زیادہ تعریف بیان کی گئی ہے سو عقلمندوں کی طرح لفظ فقعوا له ساجدین میں غور کر كأولى النهي، وفكّر في لفظ خلقتُ بيدى ولفظ سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ اور پھر اس لفظ میں غور کر جو خلقت بیدی اور سویته اور نــفـــخـــت فيـــه الحجر : ٣٠