نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 134

۱۳۴ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى ويحيى وغيرهما من النبيين ولا حاجة إلى أن نطول الكلام ونضيع اور ایسا ہی دوسرے نبیوں پر۔ اور کچھ ضرورت نہیں کہ ہم اس کلام کو طول دیں اور وقت کو ضائع الأوقات ونزيد الخصام، فإن الخواص من النصارى والعوام يعرفونه کریں اور جھگڑے کو بڑھاویں کیونکہ نصاری ان تمام باتوں کو جانتے ہیں وما كانوا منكرين۔ فلم لا تستشف أيها الجهول والغبى المعذول في اور منکر نہیں ہیں۔ پس اے نادان کیوں اپنی نظر کو پہلی کتابوں میں عمیق حد تک نہیں پہنچاتا كتب الأولين؟ ولم لا تقبل النصيحة، وتعادي العقيدة الصحيحة، ولا اور کیوں نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور صحیح عقیدے کا دشمن ہو رہا ہے اور ہدایت کی راہ پر نہیں آتا ۔ تكون من المستر شدین؟ نعطيك شهدًا يَنْقَع، وتعدو إلى سمّ مُنقَع ، ہم تجھے ایک شہد پیاس بجھانے والا دیتے ہیں اور تو ایک تیز زہر کی طرف دوڑتا ہے تا اس کو پی أتريد أن تكون من الهالكين؟ لے کیا تیرا مرنے کا ارادہ ہے ۔ وأما ما ظننت أن الله يسمّى المسيح في القرآن روحًا من الله اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں مسیح کا نام روح من اللہ رکھتا ہے الرحمن، ولا يسميه بشرًا ومن نوع الإنسان، فأعجبني أنكم لم لا اور اس کا نام بشر نہیں رکھتا اور منجملہ نوع انسان اس کو قرار نہیں دیتا سو مجھے تعجب ہے کہ تم لوگ کیوں بہتان تأنفون من البهتان، ولم لا تستحيون من خرافات وتنضنضون نضنضة سے کراہت نہیں کرتے اور خرافات بکنے کے وقت تمہیں کیوں شرم نہیں آتی اور اژدہا کی طرح الثعبان، وما كنتم منتهين۔ وتميسون كالسكارى وجدانا ووجدا، ولا زبان ہلاتے ہو اور باز نہیں آتے اور تم مارے غصہ اور غم کے ایسے چلتے ہو جیسا کہ ایک مست (۱۰۲) ترون غَورًا ولا نَجُدًا، ولا تخافون هوّة السافلين۔ أجعلتم قرة عيونكم چلتا ہے اور نشیب و فراز کو کچھ بھی نہیں دیکھتے اور گڑھے میں گرنے سے نہیں ڈرتے۔ کیا جھوٹ بولنے میں ہی تمہاری