نورالحق حصہ اوّل — Page 131
۱۳۱ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى ما إن أرى أثر الدلائل عندهم أصبوا قلوب الخلق من عقيانهم میں ان کے پاس دلائل کا نشان نہیں دیکھتا لوگوں کے دل اپنے سونے کی وجہ سے کھینچ لیے ہیں قد عاث في الأقوام ذئب شيوخهم حدثت فنون الفسق من حدثانهم ان کے بڑھوں کے بھیڑیئے نے قوموں میں تباہی ڈالی اور ان کے جوانوں سے طرح طرح کے فتق پھیلے تعريسهم آثارُ عزمِ رحيلهم يُخفُون في الأردان حبلَ ظِعانهم رات کو اترنا ان کے کوچ کی نشانی ہے اور اپنی آستینوں میں لمبے رسے اسباب باندھنے کے چھپارکھے ہیں عار على الفَطِن الزكى طعامهم ضارٌ لخلق الله ماء شنانهم ایک دانا پاک طبع پر عار ہے کہ ان کا کھانا کھاوے اور خلق اللہ کے لئے ان پرانی مشکوں کا پانی مضر ہے للمرء قرب المؤذيات جميعها خير لحفظ الدين من قربانهم انسان کے لئے تمام موذی جانوروں کا قرب اُن کے قرب سے اپنا دین بچانے کے لئے بہتر ہے لک کلَّ يومٍ ربِّ شأن معجب فانصر عبادك ربّ في ميدانهم رب ہر یک دن تیری عجیب شان ہے سو تو اپنے بندوں کی ان کے میدان میں مدد کر نقنى التضرّع والبكاء تصبّرًا نأوى إلى الرحمن من ركباتهم ہم صبر کر کے تضرع اور رونے کو لازم پکڑتے ہیں اور ان کے سواروں سے ہم خدائے تعالیٰ کی پناہ لیتے ہیں للَّهِ سهم لا يطيش إذا رمى للحق سلطان على سلطانهم خدا کا وہ تیر ہے کہ جب چھوٹا تو خطا نہیں جاتا اور خدا کا قہر ان کے قہر پر غالب ہے أنزِلُ جنودك يا قدير لنصرنا إنا لقينا الموت من لقيانهم قادر ہمارے لئے اپنا لشکر اتار کیونکہ ہم ان کے ملنے سے موت کو ملے يا رب قد بلغ القلوب حناجرا ياربّ نَجُ الخَلق من ثعبانهم میرے رب حلق کو پہنچ گئے اے میرے رب خلقت کو ان کے سانپ سے نجات دے إن القلوب من الكروب تقطعت فارحَمُ وخَلَّصُ روحنا من جانهم گئے سو رحم کر اور ہماری جان کو ان کے دیو سے رہائی بخش دل بیقراریوں ہو ودَعِ العِدا جَزَرَ السِّباع يَنشَنَهم واشفِ القلوب بخزيهم وهوانهم اور دشمنوں کو بھیٹریوں کی بکری بنا تا ان کو پکڑیں اور نوچ نوچ کر کھاویں اور ہمارے دلوں کو ان کی رسوائی اور ذلت سے شفا بخش