نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 124

۱۲۴ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ نشكو إلى الرحمن شرَّ زمانهم ونعوذ بالقدوس من شيطانهم ہم ان کے زمانے کے شر سے خدا تعالیٰ کی طرف شکایت لے جاتے ہیں اور ان کے شیطان سے پاک پروردگار کی پناہ میں آتے ہیں هل مِن صدوق يُوجدَنُ في قومهم أم هل عرفت الصدق في بلدانهم کیا کوئی راستباز ان کی قوم میں پایا جاتا ہے یا تو نے شناخت کیا کہ ان کے شہروں میں سچائی بھی ہے هم يعبدون الآدمی کمثلهم هم ينشرون الفسق في أوطانهم اپنے جیسے آدمی کی پرستش کر رہے ہیں وہ اپنے وطنوں میں بدکاری کو پھیلاتے ہیں الماكرون الكائدون من الهوى والزور كالأثمار في أغصانهم | حرص کی وجہ سے مکار اور فریبی ہیں اور ان کی شاخوں میں جھوٹ پھلوں کی طرح موجود ہے العين باكية على حالاتهم للعقل حسرات على هذيانهم آنکھ ان کے حالات پر رو رہی ہے اور عقل کو ان کے بکواس پر حسرتیں ہیں مكر على مكر خيال قلوبهم كذب عـلـى كـذب بيان لسانهم ان کے دلوں کے خیال مکر پر مکر ہے اور ان کی زبان کا بیان جھوٹ پر جھوٹ ہے إني أراهم كالبنين لِغُولِهم إن التطهـر لا تـحـل بـخـانـهـم میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے اہلیس کے لئے بطور بیٹوں کے ہیں اور پاکیزگی ان کے کاروان سرائے میں نہیں اترتی كيف الرجاء وقد تأبّط قلبهم شرًا أراه دخيلَ جَذْرِ جنانهم کیونکر امید کریں حالانکہ ان کےدل شرارت کو اپنی بغل میں لئے بیٹھے ہیں اور وہ شرارت ان کے دلوں کے اندر گھسی ہوئی ہے بل كذبوا بالحق لما جاءهم وتمايلوا حقدًا على بهتانهم بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے تکذیب کی اور کینہ سے اپنے بہتانوں کی طرف جھک پڑے كم من سموم هب عند ظهورهم كم من جهول صيد مِن أرسانهم ان کے ظاہر ہونے سے بہت سی گرم ہوائیں چلی ہیں اور ان کی رسیوں سے بہت جاہل شکار ہو گئے ٩٣ هم أنكروا بحر العلوم بخبثهم واستغزروا ما كان في كيزانهم انہوں نے اپنے خبث سے علموں کے دریا سے انکار کیا اور جو کچھ ان کے پیالوں میں تھا ان کو بہت کچھ سمجھا