نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 116

۱۱۶ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى فلما طال أمد الانتظار، وتجاوز الوقت من موعد المكار، وأضاعوا في لوگ زرد رنگ ہو جاتے ہیں جن کے مال لوٹے جاتے ہیں پس جبکہ انتظار کا زمانہ لمبا ہو گیا اور اس مکار کے وعدہ ا رقبة الزمان، وبان أن الرجل قد مانَ، نهضوا كالمجانين، وسعوا إلى كل سے وقت بڑھ گیا اور جبکہ بہت سا وقت انہوں نے انتظار میں ضائع کیا اور کھل گیا کہ وہ آدمی تو جھوٹ بول گیا تو طرف مفتشين، وعدوا إلى اليمين واليسار مرتعدين، بتصور الحلى سودائیوں کی طرح اٹھے اور ہر یک طرف تلاش کرتے ہوئے دوڑے اور دائیں بائیں طرف دوڑتے ہوئے گئے اور بڑے زیوروں الكبار وفكرهتك الأستار۔ فلما استيأسوا منه كالثكلى سقطوا کا خیال اور پردہ دری کا بھی فکر تھا پس جب کہ اس کے ملنے سے زن فرزند مردہ کی طرح نو امید ہو گئے تو كالموتى، وأكبـوا عـلـى وجوههم باكين، وعرفوا أنهم قد خُدعوا بل اور روتے ہوئے اپنے مونہوں پر گرے اور سمجھ گئے کہ ہمیں دھوکا دیا گیا بلکہ ہمارا ناک کاٹا گیا او جدعوا ومن القوم قدعوا، فضربوا على خدودهم قائلين يا ويلنا إنا كنا قوم سے ہم ہٹائے گئے تب انہوں نے اپنی گالوں پر یہ کہتے ہوئے طمانچے مارے ہمارے پر واویلا ہم تو لوٹے گئے منهوبين مخدوعين۔ ثم ألقوا على رؤوسهم غبار الصحراء ، وصعدت | دھوکا دیئے گئے پھر انہوں نے اپنے سروں پر جنگل کا گھٹا ڈال لیا اور ان کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی صرخهم إلى السماء ، وجمعوا الناس حولهم من شدة الجزع والفزع حب قوم ان کے پاس دوڑتی ہوئی آئی اور انہوں نے اس بلا سے نازل ہوئی اور اس زخم سے جس کا شکوفہ نکالا والبكاء ۔ فجاء هم القوم مُهرعين، فسألوا عن بلاء نزل وجُرح ابتزل، وعن اور اس مصیبت سے جس نے دلوں کو گلایا اور اس حادثہ سے جس نے بے قراری پیدا کی مصيبة مذيبة للقلوب وداهية مهيجة للكروب، واستفسروا من تفاصيل دریافت کیا اور مصیبت کی تفصیل دریافت کی اور اس قصہ کی کیفیت پوچھی سو انہوں المصيبة وكيفية القصة۔ فعافُوا أن يبينوا خوفًا من طعن الناس والخزى بين نے بیان کرنے سے دل چرایا کیونکہ وہ لوگوں کے لطن طعن اور خاص و عام