نورالحق حصہ اوّل — Page 108
۱۰۸ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى فدخل وعليه بُردان ،رنّان وفي يده سُبحة كسبحة الرهبان، وكان کس شان کا آدمی ہے پس وہ ان عیسائیوں کے گھر میں داخل ہوا ایسی حالت میں کہ دو پرانی چادر میں اس پر تھیں اور ایک سائلا معترا، وشَعِئًا ،مغبرا ، قد لقي متربةً وضرا، حتى انثى محقوقفًا تسبیح ہاتھ میں جیسا کہ راہبوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دراصل وہ ایک محتاج پر یشان حال تھا جو کمال درجہ کی محتا جنگی مصفرا و كان لبسه كثير الانخراق بادى الإخريراق، وكانت هيئته تک پہنچ چکا تھا یہاں تک کہ وہ زردرنگ اور غم پشت ہو گیا اور کپڑے جا بجا پھٹے ہوئے تھے جن کو وہ چھپا نہیں سکتا تھا اور اس کی تشهد على أنه ما أصاب هلةً ولا بلّةً، وإن هو إلا معروق العظم ومن صورت کہہ رہی تھی کہ ایک ادنی سی بہبودی بھی اس کو حاصل نہیں اور وہ ایک بدبختی کی حالت میں ہے سواسی حالت میں الطالحين فوَلَجَ حَلْقتهم بسوء حاله وأفانين مقاله، ليخدعهم بزخرفة وہ ان کے حلقہ میں داخل ہوا اور لگا باتیں بنانے تا کہ اپنی آراستہ کلام سے ان کو دھوکا دے سو اس نے پہلے تو سلام کیا اور محاله، فسلّم ثم كلّم، وقال هل أدلكم إلى مكسب مال تنجيكم من إقلال، پھر گفتگو شروع کی اور کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی آمدن کی راہ بتاؤں جو تمہیں ناداری کی حالت سے نجات بخشے اور تم اس سے فتكونون ذوى أملاك ورياض، وترفلون في ذيل فضفاض، وتُفعِمون بڑے مال ملک والے ہو جاؤ گے اور تمہارے باغ ہوں گے اور فاخرانہ کپڑوں میں لٹکتے پھرو گے اور روپیہ سے اپنے صـنــاديــقــكـم كما يفعم الماء في حياض، فتصبحون متنعمين؟ فرغبوا مِن صندوق اس قدر بھر لو گے کہ جس طرح حوضوں میں پانی ہوتا ہے اور بڑے مالدار ہو جاؤ گے سو انہوں نے بے وقوف احمقهم وشدة شحهم فى الأموال، وقالوا مرحبًا لك تعال تعال، ودُلُّنا عیسائیوں کے دل اپنی حماقت اور لالچ کی وجہ سے ایسے مال لینے کے لئے للچائے اور کہا کہ مرحبا تشریف لائیے اور ہمیں إلى هذا المنوال، وإنا نفعل كل ما تأمر، ونحضر أينما تحضر، وستجدنا ایسا راہ بتائیے اور ہم وہی کریں گے جو آپ فرمائیں گے اور جس جگہ حاضر ہونے کو کہو گے حاضر ہو جائیں گے اور ہم کو من المتمثلين الشاكرين۔ ففرح الخُدَعةُ في قلبه على قيد الصيد وإصابة آپ فرمانبردار اور شکر گزار پاؤ گے۔ پس وہ مکار یہ باتیں سن کر اپنے دل میں بہت خوش ہوا اور سمجھا کہ شکار مارا گیا