نورالحق حصہ اوّل — Page 107
1۔2 روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى استماع قول الكذاب، وإذا بلغها فلا يجد إلا وادى التباب، اور ایک جھوٹے کی بات کو سن کر اعتبار کر لیتا ہے اور جب اس ریت پر پہنچتا ہے تو بجز ایک جنگل ہلاک کرنے والے کے فتضطرم نار العطش وتثب عليه كالذياب، ويحترق القلب اور کچھ نہیں پاتا تب اس وقت پیاس کی آگ بھڑکتی ہے اور اس پر بھیٹریوں کی طرح حملہ کرتی ہے اور اس کا دل ایسا جلتا كاحتراق الجلباب، فيسقط على الأرض من غلبة الاضطراب ہے جیسا کہ ایک چادر کو آگ لگ جاتی ہے پس بے قرار ہوکر زمین پر گر پڑتا ہے اور اس کی روح پرند ويطير روحه كالطير ويلحق بالميتين۔ کی طرح پرواز کر جاتی ہے اور مردوں سے جاملتی ہے ۔ فمثل قوم اتكلُّوا على الكفّارة من كمال الجهل والغرارة، (۸۰) پس ان لوگوں کی مثال جو کفارہ پر اپنے جہل اور نادانی کی وجہ سے تکیہ کئے بیٹھے ہیں ان لوگوں کی كمثل حمقى الذين كانوا من قوم متنصرين۔ طحطح بهم قلة المال مانند ہیں جو ایک گروہ بے وقوف عیسائیوں کا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ وہ لوگ قلت مال وكثرة العيال، حتى كان الفقر حصادهم والتُرب مِهادَهم، وطعامهم اور کثرت عیال کی وجہ سے ایسے پریشان خاطر ہوئے کہ محتاجگی نے جس طرح کہ گھاس کاٹا جاتا ہے بعض الأفاني وسَحُناء هم كالشيخ الفاني، وكانوا من شدة بؤسهم ان کو کاٹ دیا اور زمین ان کا بچھونا ہوگیا اور کھانا ان کا گھاس پات ہو گیا اور ان کی شکل مارے فاقوں کے بڑھوں مضطرين، فقيّض القدر لَنَصبهم ووَصَبهم أن جاء هم شيخ شَخْتُ کی سی ہوگئی اور اپنے فقر فاقہ سے وہ سخت محتاج ہوئے پس بُری تقدیر نے ان کے لئے یہ اتفاق الخلقة، دقيق الشركة، حقير السَّحُنة، وكان توجد فيه آثار پیش کیا کہ ایک دبلا سا بڈھا ان کے پاس آیا جس کے مکروں کی جالی بہت ہی باریک تھی اور وہ کچھ رو دار صورت الخصاصة والافتقار، ويبين حاله الحِداءُ المرقَعُ وبلى الأطمار نہیں تھا اور اس میں ناداری اور محتاجگی کے آثار نمایاں تھے اور اس کی پھٹی پرانی جوتی اور پرانی چادریں بتلا رہی تھیں کہ