نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 106

1+4 روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى للمتقدم لا للذي جاء بعده كالمضاهين۔ وقد خلق الله آدم بيده وعلى کہلاتا جو پیچھے سے آوے اور پہلے کی ریس سے کوئی بات منہ پر لاوے اور خدا نے تو آدم کو اپنے ہاتھ سے اور صورته، ونفخ فيه روحه بكمال محبته، وأما المسيح فما كان لَبِنةَ أوّل اپنی صورت پر پیدا کیا تھا اور کمال محبت سے اس میں اپنا روح پھونکا مگر مسیح تو الأساس، بل جاء فى أخريات الناس، وكان من المتأخرين۔ پہلی بنیاد کی اینٹ نہیں تھے بلکہ وہ تو آخری لوگوں میں آیا اور متاخرین میں سے کہلایا۔ پھر ثم العجب أن إله النصارى ولد الابن ولم يلد البنات، كأنه عاف تعجب یہ ہے کہ نصاریٰ کے خدا نے بیٹا تو جنا مگر بیٹی کوئی نہیں جنی گویا اس نے دامادوں سے الأختان أو كره أن يصاهر إلا الصفتات، أو لم يجد كمثله الشرفاء کراہت کی اور نہ چاہا کہ کوئی غیر کفو اس کا داماد ہو یا اپنے جیسا کوئی عزت دار نہ پایا السراة ۔ فهــل مـن أعجوبة في السكارى مثل أطروفة النصارى، أم هل جس کو لڑ کی دیوے پس کیا عیسائیوں کے عقیدوں کے اعجوبہ کی طرح کوئی اور بھی اعجوبہ ہے یا ان کی مانند رأيت مثلهم من المغلّسين؟ والأصل الموجب الجالب إلى هذه | تو نے کوئی اور بھی اندھیرے میں رات میں چلتا دیکھا۔ اور اصل موجب جس نے عیسائیوں کو اس العقيدة الفاسدة والأمتعة الكاسدة، انهماكهم في الدنيا مع هجوم عقیدہ کی طرف کھینچا ان کا دنیا میں غرق ہونا ہے پھر اس کے ساتھ أنواع العصيان وشوق نعماء الجنان مع رجس الجنان۔ وأنت تعلم قسم قسم کے گناہ اور پھر دل کی پلیدی کے ساتھ آخرت کی نعمتوں کا شوق اور تو جانتا ہے کہ لالچ حق بینی کی أن الشح يُعمى عين رؤية الصواب، فلا يفتش الشحيحُ العَجولُ مِن آنکھ کو بند کر دیتا ہے پس لالچی اور شتاب کار آدمی نشیب فراز کو کچھ نہیں دیکھتا الوهاد والحداب، بل يسعى مستعجلا إلى ملامح السراب، بمجرد پس اس ریت کی طرف جلدی سے دوڑتا ہے جو پانی کی طرح دکھلائی دیتی ہے