نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 86

روحانی خزائن جلد ۸ ۸۶ نور الحق الحصة الاولى عمـايـات الرجال تزيد منهم وفتن الدهـر تـنــمو كل آن اور دم بدم بڑھتے جاتے ہیں لوگوں میں ان کے سبب سے گمراہی پھیلتی جاتی ہے وما من ملجأ من دون ربّ کریم قادر كهف الـزمـــان اور ان آفتوں سے بچنے کے لئے بجز اس خدا کے کوئی گریز گاہ نہیں جو کریم اور قادر اور زمانہ کی پناہ ہے فنشكو هاربين من البلايا إلى الله الحفيظ المستعان سو ہم ان بلاؤں سے بھاگ کراسی خدا کی طرف شکایت لے جاتے ہیں جو اپنے بندوں کا نگہبان اور بے قراروں کی مدد کرنے والا ہے جرت حزنًا عيون من عيوني بمـا شـاهـدث فتـــــا كالدخان میری آنکھوں سے مارے غم کے چشمے بہ نکلے جبکہ میں نے ان فتنوں کا مشاہدہ کیا جو دھوئیں کی مانند اٹھ رہے ہیں فهل وجدت ثكالى مثل وجدى أذًى أم هل لها شأن كشاني پس کیا وہ عورتیں جن کے لڑکے مرجائیں ایسا غم کرتی ہیں جو میں کرتا ہوں کیا دکھ کے وقت ان کا ایسا حال ہوتا ہے جو میرا حال ہے و کم مــــن ظـــالــم يبغى فسادًا وقسيـــــسـيـن أصــــل الافـتـنـان بہتیرے ظالم یہی چاہتے ہیں جو دنیا میں فساد اور گناہ پھیلے اور توحید میں فتنہ اندازی کی جڑ پادری لوگ ہیں تفاحشـــهـم تـجـاوز كل حدّ كأن غــذاء هـم فـحـشُ اللسان پادریوں کی بدگوئی حد سے زیادہ بڑھ بڑھ گئی گویا بد زبانی ان کی فكنتُ أطـالـعَـنَّ كتاب ساب وتمطر مُقْلَتى مثل الرَّثان میں نے ایک ایسے شخص کی پادریوں میں سے کتاب دیکھی جس نے گالیاں دی ہیں سو میں اس کتاب کو دیکھتا تھا ور میری آنکھوں سے مینہ کی طرح آنسو جاری تھے رأينا فيه كلما مُحفظات وسب المصطفى بحر الحنان ہم نے اس کتاب میں وہ کلے دیکھے جو غصہ دلانے والے تھے اور دیکھا کہ اس شخص نے سول اللہصلم کو گالیاں نکالی ہیں جو خشانش کا دریا ہے صبرت عليه حتى عيل صبرى ونار الغيظ صارت في جنانی میں نے اس بات پر صبر کیا یہاں تک کہ صبر کرتا کرتا ہار گیا اور غصہ کی آگ مجھ میں بھڑ کی وتأتي ساعة إن شاء ربى أقر الـعـيـن بـالـخصم المهان ہے غذا ہے۔ اور وہ گھڑی آتی ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم دشمن کی رسوائی دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے