نورالحق حصہ اوّل — Page 79
روحانی خزائن جلد ۸ ۷۹ نور الحق الحصة الاولى من هذا الجنود، فاخسأوا يا معشر الظالمين الكافرين۔ وأشار إلى أنكم اے ظالمو کافرو دور اور ہو۔ بات کی طرف اشارہ اس لبستم الحق بالباطل وتركتم أمره وكنتم قومًا دجالين۔ وأنت تعلم أن کیا کہ تم نے حق کو باطل کے نیچے چھپا دیا اور تم ایک دجال قوم ہو اور تجھے معلوم ہو کہ حقيقة الظلم وضع الشيء في غير موضعه عمدًا وبالإرادة لينتقب وجه ظلم کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شئے اپنے موقعہ سے اٹھا کر عماً غیر محل پر رکھی جائے تا راہ چھپ جاوے المحجّة ويُسَدّ طريق الاستفادة ويلتبس الأمر على السالكين۔ فالظالم اور استفادہ کا طریق بند ہو جاوے اور چلنے والوں پر بات ملتبس ہو جاوے۔ پس ظالم هو الذي يحلّ محلّ المحرّفين ويبدّل العبارات كالخائنين، ويجترء اس کو کہیں گے جو محرفوں کا کام کرے اور خیانت پیشہ لوگوں کی طرح عبارتوں کو بدلا دے اور جرات کر کے على الزيادة في موضع التقليل والتقليل في موضع الزيادة كَيْفًا وكَمَّا، کم کی جگہ زیادہ کرے اور زیادہ کی جگہ کم کر دیوے کیا کیفیت کی رو سے اور کیا کمیت کی أو ينقل الكلمات من معنى إلى معنى ظلمًا وزورًا مِن غير وجودِ قرينةٍ ر محض ظلم اور جھوٹ کی راہ سے کلموں کو ایک معنے سے دوسرے معنوں کی طرف لے جائے اور رو سے صارفة إليه، ثم يأخذ يدعو الناسَ إلى مفترياته كالخادعين۔ وما معنى حالانکہ اس کے فعل کے لئے کوئی قرینہ مددگار نہ ہو اور پھر اس بناء پر دھوکا دینے والوں کی طرح لوگوں کو اپنے مفتریات الدجل والدجالة إلا هذا، فليفكر من كان من المفكرين۔ کی طرف بلا نا شروع کرے اور دجالیت کے معنے بجز اس کے کچھ نہیں پس جو شخص فکر کر سکتا ہے اس میں فکر کرے۔ والقِيَ في روعى أن المسيح سمّى الآخرين من النصارى الدجالين اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے آخری زمانہ کے نصاری کا نام دجال رکھا لا الأولين، وإن كان الأولون أيضًا داخلين فى الضالين المحرفين والسرّ اور ایسا نام پہلوں کا نہیں رکھا اگرچہ پہلے بھی گمراہوں میں داخل تھے اور کتابوں کی تحریف کرنے والے تھے ۔ سو