نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 435

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۳۳ نور القرآن نمبر ۲ پیش نہیں آتا بلکہ اس کی نسبت محل اور موقعہ کے مناسب حال کا رروائی کرتا ہے اور کبھی نرمی اور کبھی درشتی سے پیش آتا ہے بعض وقت اس کو شربت پلاتا ہے اور بعض اوقات ایک حاذق ڈاکٹر کی طرح اس کا ہاتھ یا پیر کاٹنے میں اس کی زندگی دیکھتا ہے اور بعض اوقات اس کے کسی عضو کو چیرتا ہے اور بعض اوقات مرہم لگا تا ہے اگر تم ایک دن ایک بڑے شفا خانہ میں جہاں صدہا بیمار اور ہر یک قسم کے مریض آتے ہوں ۔ بیٹھ کر ایک حاذق تجربہ کار ڈاکٹر کی کارروائیوں کو مشاہدہ کرو تو امید ہے کہ مشفق کے معنے تمہاری سمجھ میں آجائیں گے ۔ سو تعلیم قرآنی ہمیں یہی سبق دیتی ۳۷) ہے کہ نیکوں اور ابرار اخیار سے محبت کرو اور فاستوں اور کافروں پر شفقت کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ یعنی اے کا فرو یہ نبی ایسا مشفق ہے جو تمہارے رنج کو دیکھ نہیں سکتا اور نہایت درجہ خواہشمند ہے کہ تم ان بلاؤں سے نجات پا جاؤ پھر فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کے یعنی کیا تو اس غم سے ہلاک ہو جائے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے ۔ مطلب یہ ہے کہ تیری شفقت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ تو ان کے غم میں ہلاک ہونے کے قریب ہے اور پھر ایک مقام میں فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ " یعنی مومن وہی ہیں جو ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی نصیحت کرتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ شدائد پر صبر کرو اور خدا کے بندوں پر شفقت کرو اس جگہ بھی مرحمت سے مراد شفقت ہے کیونکہ مرحمت کا لفظ زبان عرب میں شفقت کے معنوں پر مستعمل ہوتا ہے پس قرآنی تعلیم کا اصل مطلب یہ ہے کہ محبت جس کی حقیقت محبوب کے رنگ سے رنگین ہو جانا ہے بجز خدا تعالیٰ اور صلحاء کے التوبة : ١٢٨ الشعراء: البلد: ۱۸