نورالقرآن نمبر 2 — Page 436
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۳۴ نور القرآن نمبر ۲ اور کسی سے جائز نہیں بلکہ سخت حرام ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا للهِ اور فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصْرَى أَوْلِيَاءَ اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً منْ دُونِكُمْ کے یعنی یہود اور نصاری سے محبت مت کرو اور ہر ایک شخص جو صالح نہیں اس سے محبت مت کرو ۔ ان آیتوں کو پڑھ کر نادان عیسائی دھوکا کھاتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ عیسائی وغیرہ بے دین فرقوں سے محبت نہ کریں لیکن نہیں سوچتے کہ ہر یک لفظ اپنے محل پر استعمال ہوتا ہے جس چیز کا نام محبت ہے وہ فاسقوں اور کافروں سے اسی صورت میں بجالا نا متصور ہے کہ جب ان کے کفر اور فسق سے کچھ حصہ لے لیوے نہایت سخت جاہل وہ شخص ہوگا جس نے یہ تعلیم دی کہ اپنے دین کے دشمنوں سے پیار کرو ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ پیار اور محبت اس کا نام ہے کہ اس شخص کے قول اور فعل اور عادت اور خلق اور مذہب کو رضا کے رنگ میں دیکھیں ۔ اور اس پر خوش ہوں اور اس کا اثر اپنے دل پر ڈال لیں اور ایسا ہونا مومن سے کافر کی نسبت ہرگز ممکن نہیں ۔ ہاں مومن کا فر پر شفقت کرے گا اور تمام دقائق ہمدردی بجالائے گا اور اس کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا غمگسار ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب ملت کے تم لوگوں سے ہمدردی کر و بھوکوں کو کھلاؤ غلاموں کو آزاد کر و قرض داروں کے قرض دو اور زیر باروں کے بار اٹھاؤ اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو۔ ۳۸) اور فرماتا ہے۔ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَائِ ذِي الْقُرْبَى یعنی خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ کہ احسان کرو جیسے البقرة : ١٦٦ ٢ المائدة : ۵۲ ال عمران: ۱۱9 النحل: ۹۱