نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 415

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۱۳ نورالقرآن نمبر ۲ بعد اور ایسی عادت یا ایسا ملک چھوڑ دینے کے بعد جس میں زبر دستی کی جاتی ہے اور صبر اور استقامت کے بعد اس کا گناہ معاف کیا جائے گا اور خدا اس کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ وہ رحمن ورحیم ہے ۔ غرض خدا تعالیٰ نے اس اخفا کو محل مدح میں نہیں رکھا بلکہ ایک گناہ قرار دیا ہے اور اس گناہ کا کفارہ پچھلی آیت میں بتلا دیا ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں جا بجا ان مومنوں کی تعریف کی ہے جو دین کی گواہی کو نہیں چھپاتے اگر چہ جان جائے ۔ ہاں ایسے شخص کو بھی رد کرنا نہیں چاہا جو اپنی ضعف استعداد اور فوق الطاقت عذاب کی وجہ سے معذب ہونے کی حالت میں دین کی گواہی کو پوشیدہ رکھے بلکہ اس کو اس شرط سے قبول کر لیا ہے کہ آئندہ ایسی عادت سے یا ایسے ملک سے جس میں زبر دستی ہوتی ہے علیحدہ ہو جائے اور اپنے صدق اور ثبات اور مجاہدات سے اپنے رب کو راضی کرے تب یہ گناہ دین کے اخفاء کا معاف کیا جائے گا کیونکہ وہ خدا جس نے عاجز بندوں کو پیدا کیا ہے نہایت کریم و رحیم خدا ہے ۔ وہ کسی کو تھوڑے کئے پر اپنی جناب سے رد نہیں کرتا یہ تو تعلیم قرآنی ہے ۔ جو خدا تعالیٰ کی صفات رحمت اور مغفرت کے بالکل مطابق ہے ۔ لیکن آپ کے اقرار سے یہ معلوم ہوا کہ یہ تعلیم انجیل کی نہیں ہے اور انجیل کی رو سے یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی عیسائی کسی فوق الطاقت دیکھ کے وقت عیسائی دین کی گواہی سے زبان سے انکار کرے تو وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہو گیا اور اب انجیل اس کو اپنی جماعت میں جگہ نہیں دے گی اور اس کے لئے کوئی تو یہ نہیں شاباش شاباش آج تم نے اپنے ہاتھ سے مہر لگا دی کہ یہ انجیل جو